The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم عمران خان آج ‘احساس نشوونما پروگرام’ کا افتتاح کریں گے

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان آج احساس نشوونما پروگرام کا افتتاح کریں گے، تین سالہ نشوونما پروگرام کا بجٹ 8.52 بلین روپے رکھاگیا ہے، جس سے مستحق نشوونما صارفین کوسہ ماہی وظیفہ بھی دیا جائے گا۔۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان آج قبائلی ضلع خیبر میں قائم نشوونما مرکز کا دورہ کرکے احساس نشوونماپروگرام کاباقاعدہ آغاز کریں گے،ملکی تاریخ میں اسٹنٹنگ کی روک تھام کا پہلا حکومتی پروگرام ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں کسی حکومت نے اس مسئلے پر توجہ نہیں دی، بچوں میں اسٹنٹنگ کامسئلہ ہمیشہ سے وزیراعظم کی ترجیحات میں شامل رہا اسٹنٹنگ کی بیماری کی شرح کے لحاظ سے پاکستان خطے میں دوسرے نمبر پر ہے۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان میں 40فیصدبچے غذائی قلت،دیگروجوہات پراسٹنٹنگ کا شکار ہیں، اسٹنٹنگ میں مبتلا افراد قدرتی قد ،ذہنی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں ، تین سالہ نشوونما پروگرام کا بجٹ 8.52 بلین روپے رکھاگیا ہے، جس سے مستحق نشوونما صارفین کوسہ ماہی وظیفہ بھی دیا جائے گا۔

پہلے مرحلے میں 9اضلاع میں 33 نشوونما مراکز قائم کئے جارہے ہیں، 9اضلاع کی نشاندہی انکے ہائی اسٹنٹنگ ریٹ کی بنیاد پر کی گئی،اگست کے آخر تک 33 نشوونما مراکز قائم کر دئیے جائیں گے، احساس نشوونما پروگرام میں عالمی ادارہ خوراک کاتعاون شامل ہے۔

معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراپنے پیغام میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان آج احساس نشونما پروگرام کا افتتاح کریں گے، مشروط کیش ٹرانسفر کر کے 2سال سےکم عمربچوں میں اسٹنٹنگ،غذائی قلت کاازالہ کرناہے ، وزیراعظم کاغذایت کی کمی کاخاتمہ ایک ترجیح رہا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا وزیراعظم عمران خان آج احساس نشونما پروگرام کا آغاز کریں گے ، پاکستان میں40% بچے غذائی قلت کی وجہ سےاسٹنٹنگ کاشکارہیں ،غذائی قلت کے باعث بچے قدرتی قداور صلاحیت سےمحروم رہ جاتے ہیں، پروگرام سےحاملہ خواتین،کم عمر بچوں کیلئےتسلی بخش غذا کی فراہمی یقینی ہوگی، پروگرام میں بچوں کیلئےسہ ماہی وظیفہ دیا جائے گا۔

گذشتہ روز معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک خصوصی غذا کے حوالے سے پروگرام بنایا گیا ہے جس کے تحت غذائی قلت کا شکار بچوں اور ماؤں کو غذائی ڈبے دیے جائیں گے۔

ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ غذائی قلت کی وجہ سے بچوں کا وزن کم اور قد چھوٹا رہ جاتا ہے، غذائی قلت بچوں کی ذہنی نشونما پر بھی اثر انداز ہوتی ہے، پہلی بار اس شعبے کو ترجیح دے کر جامع پروگرام مرتب کیا گیا ہے، اس پروگرام میں بلوچستان کے 3 اضلاع بھی شامل ہیں۔ پہلے مرحلے میں 2 لاکھ 21 ہزار بینفشریز ہیں، سہ ماہی خرچ کے علاوہ آنے جانے کا 500 روپے خرچ بھی دیں گے۔

معاون خصوصی نے کہا تھا کہ ملک کے 9 ڈسٹرکٹ کے 33 سینٹرز میں پروگرام شروع کیا گیا ہے، 15 ماہ تک خواتین اس پروگرام سے مستفید ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے وزیر اعظم نے پناہ گاہوں پر میٹنگ کال کی تھی، وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پناہ گاہوں کا اسٹینڈرڈ اچھا رکھنا ہے۔ غریب اور مسکین کو اچھا کھانا اور بستر نہ بھی دیں تو وہ شکایت نہیں کرتے، اسی لیے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہمیں غریبوں کا خود سے خیال رکھنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں