The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم عمران خان کے افغانستان سےمتعلق بیان کوسیاق وسباق سے ہٹ کرپیش کیاگیا، دفترخارجہ

اسلام آباد : افغان حکومت کے ردعمل پر پاکستانی دفترخارجہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا وزیراعظم عمران خان کاافغانستان سےمتعلق بیان سیاق وسباق سے ہٹ کرپیش کیاگیا، بیان کو افغانستان کےداخلی امورمیں مداخلت نہ سمجھاجائے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے بیان پر افغان حکومت کے ردعمل پر دفترخارجہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا وزیراعظم کابیان ویڈیومیں سیاق وسباق سےہٹ کرپیش کیاگیا، انھوں نے پاکستان کے نظام کا حوالہ دیاتھا۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا پاکستان میں نگراں حکومت کے تحت انتخابات ہوتے ہیں، وزیراعظم کا بیان افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت نہ سمجھا جائے،  پاکستان افغانستان میں کسی قسم کے مفاد کی خواہش نہیں رکھتا۔

وزیراعظم کا بیان افغانستان کےداخلی امورمیں مداخلت نہ سمجھاجائے

ڈاکٹر فیصل نے کہا وزیراعظم نے افغان مفاہمتی عمل کی کامیابی کیلئے دلچسپی لی، اہم موڑ پر پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو نظرانداز نہیں کرناچاہئے، ایسے اقدامات سے غلط فہمیاں پیدا ہوگی۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا وزیراعظم افغان عوام کے پر امن انداز میں رہنے کے حق کو سمجھتے ہیں، افغان عوام نے 4 دہائیاں جنگ اور تشدد کے زیر اثرگزاریں۔

یاد رہے 2 روز قبل وزیراعظم عمران خان نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں کہا تھا کہ افغان طالبا ن نے مجھ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن افغان حکومت کے اعتراض پر ملاقات منسوخ کی۔

جس کے بعد افغان حکام نے شدید احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے کابل میں پاکستانی سفارتخانے میں تعینات فرسٹ سیکرٹری کو افغان دفترخارجہ طلب کیاگیا اور وزیراعظم کے دیئے گئے بیان پر تحریری احتجاج کیا۔

پاکستانی سفارتکار نے افغانستان کودوٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا وزیراعظم کےبیان سےمتعلق کسی وضاحت کی ضرورت نہیں، ان کا بیان خطےمیں امن واستحکام کومدنظررکھ کردیاگیا، پاکستان افغانستان میں امن کاخواہاں ہے۔

بعد ازاں افغان حکومت نے اسلام آباد سے اپنے سفیر عاطف مشعل کو مشورے کے لیے واپس بلا لیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں