ساہیوال میں 660 میگا واٹ بجلی منصوبے کا افتتاح، ایشین ٹائیگر بن کے دکھائیں‌ گے، وزیراعظم -
The news is by your side.

Advertisement

ساہیوال میں 660 میگا واٹ بجلی منصوبے کا افتتاح، ایشین ٹائیگر بن کے دکھائیں‌ گے، وزیراعظم

ساہی وال : وزیرا عظم نے ساہیوال میں کول پاور پلانٹ کا افتتاح کردیا، پاور پلانٹ سے ملکی بجلی میں 660 میگا واٹ کا اضافہ ہوگا، نواز شریف کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ ٹی وی پر آکر بہتان لگاتے رہتے ہیں، وہ الزام لگاتے رہے ہیں گے ہم کام کرتے رہیں گے ہمارے پاس انہیں جواب دینے کا وقت نہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے ساہیوال کول پاور پروجیکٹ کے 660 میگاواٹ یونٹ کا افتتاح کردیا، اس موقع پر كابینہ كے وزرا كے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سمیت قومی وصوبائی اسمبلی کے ارکان بھی ہمراہ تھے۔

ساہیوال کول پاور پلانٹ دو یونٹس پر مشتمل ہے، جو 1320 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے، یہ مقررہ مدت سے 6ماہ پہلے مکمل کیا گیا ہے، منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت 8.11 روپےفی یونٹ ہوگی۔

منصوبے کے ایک یونٹ نے کام کرنا شروع کردیا ہے جبکہ دوسرایونٹ بھی جون کے دوسرے ہفتے میں کام شروع کردے گا۔

وزیراعظم کی آمد پر سیکیورٹی کے فول پرو ف انتظامات کیے گئے ہیں، وزیراعظم کول پاور پلانٹ کے افتتاح بعد جلسے بھی سےخطاب کرینگے۔

ساہیوال پاور پروجیکٹ پاک چین اقتصادی راہداری کے ترجیحی منصوبوں میں شامل تھا، ساہیوال کول پاور پروجیکٹ کو قومی گرڈ سے پہلے سے منسلک کیا جاچکا ہے اور منصوبے میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے منصوبے کا سنگ بنیاد 30مئی 2014ءکو رکھا تھا۔

بائیس ماہ میں ایسا منصوبہ مکمل ہونے کی مثال نہیں ملتی

ساہیوال کول پاور پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ منصوبے پر کام کرنے والے چینی شہریوں کے شکر گزار ہیں،22ماہ میں ایسے منصوبے کی تکمیل کی کوئی مثال نہیں ملتی،ساہیوال پاور پلانٹ اس وقت 660میگاواٹ بجلی پیدا کررہا ہے دوسرے مرحلے میں یہ منصوبہ 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔

منصوبے کے ہیرو شہباز شریف ہیں

انہوں نے کہا کہ یہ  منصوبہ برق رفتاری سے مکمل کیا گیا اس کے ہیرو شہباز شریف ہیں، یہ منصوبہ پنجاب اسپیڈ اور پی ایم ایل این اسپیڈ ہے، منصوبے پر نوجوان انجیئنرز نے کام کیا یہ امرباعث مسرت ہے۔

آئندہ سال دس ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل کریں گے

انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آئے تو ملک کو دہشت گردی،بجلی کے بحران کا سامنا تھا، ہماری اسٹاک مارکیٹ کا شمار دنیاکی 5 بہترین مارکیٹس میں ہوتا ہے، پاکستان کی معاشی میدان میں کارکردگی کافی اچھی رہی ہے،ملک میں بجلی کا بحران ختم ہورہا ہے، آئندہ سال 10 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کریں گے۔

سال 2018میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کردیں گے

سال 2018میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیں گے، بجلی کی قیمت میں کمی کی گئی ہے،آئندہ سال مزیدسستی ہوگی،ساہیوال پاور پلانٹ کے ذریعے سستی بجلی پیدا کی جائے گی۔

کے پی کے میں ہماری حکومت نہیں پھر بھی وہاں موٹر وے بنا رہے ہیں

وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں سٹرکوں کا جال بچھایا جارہا ہے،خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت نہیں مگر ہم وہاں بھی موٹروے بنا رہے ہیں، مانسہرہ سے مظفر آباد اور مظفر آباد سے میرپور تک موٹروے بنائیں گے،لاہور سے ملتان کے درمیان موٹروے زیرتعمیر ہے جو آئندہ سال مکمل ہوجائے گا۔

قومی اثاثوں کا ہم خیال نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟

انہوں نے کہا کہ یہاں روایت ہے کہ جو منصوبے 4سال میں بن سکتے ہیں ہیں وہ 40سال میں بھی نہیں بنتے،کئی کئی سال منصوبے مکمل نہیں ہوتے تو آدھا پیسہ لوگ کھا جاتے ہیں،ہم چلے گئے تو 1999میں بننے والے موٹروے کو کسی نہیں  پوچھا،قومی اثاثوں کا ہم خیال نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟

کوئی اور حکومت آتی ہے تو جاری منصوبوں کو ختم یاچھوٹا کردیتی ہے

انہوں نے بتایا کہ لاہور سے اسلام آباد موٹر وے 21ارب روپے میں بنا تھا، آج اس موٹروے کی قیمت 350ارب روپے ہے،ہم حکومت میں آئے تو موٹروے نے آگے چلنا شروع کردیا،ایک حکومت آتی ہے تو جاری منصوبوں کو ختم یاچھوٹا کردیتی ہے۔

کچھ لوگ روز ٹی وی پر آکر بہتان بازی کرتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ کیا کوئی بتائے گا پاکستان میں بجلی کا بحران کیوں پیدا کیا گیا؟کچھ لوگ روز ٹی وی پر آکر بہتان بازی کرتے ہیں؟ ہماری حکومت کرپٹ ہوتی تو منصوبے 22ماہ میں مکمل ہوتے؟ہمارا ہدف صرف لوڈ شیڈنگ کاخاتمہ نہیں بجلی کی قیمتیں کم کرناہے۔

ہمارے پاس مخالفین کے الزامات کا جواب دینے کا وقت نہیں

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس مخالفین کے الزامات کا جواب دینے کا وقت نہیں، میں مخالفین کے الزامات کے جواب دینے کا قائل نہیں،مخالفین کی سیاست دھری کی دھری رہ جائے گی ہمارا کام مخالفین کے الزامات کو دھو دے گا۔

بہتان لگانے والے کہتے رہیں، ہم اپنا کام کرتے ہیں

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ لوگ پاکستان کی ترقی کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں،ان لوگوں کے رویے سے ہم ترقی کے سفر کو نہیں روکیں گے،ہمارا کام ہی ہمارے بارے میں کہتا ہے لوگ خود فیصلہ کریں گے ہم بہتان لگانے والوں کو جواب دینے کے پابند نہیں ، بہتان لگانے والے الزام تراشی کرتے رہیں ہم  اپنا کام کرتے رہیں گے ہمیں ایشین ٹائیگرز بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

منصوبے پر کام کرنے والے ملازمین کے لیے بونس کا اعلان

دریں اثنا وزیراعظم نواز شریف نے اس منصوبے پر کام کرنے والوں کے لیے ایک ماہ کے بونس کا اعلان بھی کیا۔

ساہیوال کول پاور پروجیکٹ ملکی تاریخ کا بڑا منصوبہ ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب

قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر  اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا کہ ساہیوال کول پاور پروجیکٹ ملکی تاریخ کا بڑا منصوبہ ہے، چین ہمارے اسپتالوں اور اسکولوں کو اندھیرےمیں نہیں دیکھ سکتا

دنیا میں کوئی منصوبہ اتنی قلیل مدت میں نہیں بنا

انہوں نے کہا کہ  منصوبے کو 22 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کرنا ایک ریکارڈ ہے،دنیا میں کہیں بھی اتنی قلیل مدت میں بڑا منصوبہ نہیں بن سکا۔

سی پیک میں چیک 36 ارب ترقیات پر خرچ کررہا ہے

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سی پیک خطےکی ترقی کا شاندار اور بےمثال منصوبہ ہے،سی پیک کے تحت 36ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جارہے ہیں،چین کی جانب سے اس سرمایہ کاری کو ہم کبھی نہیں بھلا سکتے۔

قوم سے وعدہ کیا تھا کہ اندھیروں کو ختم کریں گے

ان کا کہنا تھا کہ سال 2013 میں اقتدار سنبھالا تو ہر طرف اندھیرے تھے، قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ان اندھیروں کو ختم کریں گے۔

گزشتہ دوبرس  میں جتنا کام ہوا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دوبرس  میں جتنا کام ہوا تاریخ میں کبھی اتنا کام نہیں ہوا،وزیراعظم اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لیے سوچ و بچار میں رہتے تھے۔

دھرنا دینے والوں کی وجہ سے سی پیک کے معاہدے میں تاخیر ہوئی

انہوں نے بتایا کہ  سی پیک کے معاہدے پر ستمبر 2014 میں دستخط ہونے تھے لیکن ایک جماعت نے اسلام آباد میں دھرنا دے رکھا تھا، اس جماعت کی منت سماجت کی گئی مگر دھرنا ختم نہیں ہوا اور دھرنا دینے والوں نے کہا کہ ہم یہیں بیٹھیں گے،جانے والے نہیں اور اسی دھرنے کی وجہ سے چینی صدر کے دورے میں 7ماہ تاخیر ہوئی۔

نیلم جہلم منصوبہ 18سال سے رینگ رہا ہے

انہوں نے کہا کہ نیلم جہلم منصوبہ 18سال سے رینگ رہا ہے، نیلم جہلم منصوبے کی لاگت 5ارب ڈالرز تک پہنچ گئی ہے، 5ارب ڈالرز کی لاگت سے ساہیوال جیسے تین منصوبے بن سکتے ہیں، مشرف نے بغیر زمین لیے دیامربھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا تھا  تاہم نواز شریف حکومت نے دیامر بھاشا ڈیم کے لیے زمین خریدی۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک  وال پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں