The news is by your side.

’اب چھینک بھی مارنی ہے تو آئی ایم ایف سے پوچھنا پڑے گا‘

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اب ہمیں اگر چھینک بھی مارنی ہے تو آئی ایم ایف سے پوچھنا پڑے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ارکان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے تو یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہونا چاہیے کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم آزاد نہیں ہے کہ فیصلہ کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ’بجلی کی ایف اے سی کے لیے بھی آئی ایم ایف سے پوچھنا پڑا کہیں یہ ہمارا حقہ پانی بند نہ کردے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’قومیں اس طرح زندہ نہیں رہ سکتی بلکہ قومیں لڑتی ہیں مرتی ہیں محنت کرتی ہیں اور دیانتداری سے کام لیتی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’اللہ نے آپ کو پہاڑ، خزانے، معدنی وسائل دیے ہیں مگر اس کے لیے ہم نے آج تک کیا ہے ریکوڈک کی مثال لے لیں ایک دھیلے کا وہاں سے تانبہ اور سونا نہ نکلا اور اربوں کھربوں روپے ہم تاوان میں ادا کرچکے ہیں۔‘

انہوں نے سوال کیا کہ قومیں اس طرح بنتی ہیں؟ پھر یہ کہتے ہیں کہ ہم مانگ رہے ہیں 75 سال بعد بھی اگر مانگ رہے ہیں تو پھر اور کیا کرتے یہ سب ہمارا اپنا کیا دھرا ہے اس میں کوئی قصوار نہیں ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ریکوڈک بلوچستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اس کا حال دیکھ لیں ہم اربوں کھربوں روپے تاوان میں وکیلوں کی فیسیں ادا کرچکے ہیں، ترقی رک گئی وقت ضائع ہوا اس کا جوابدہ کون ہے۔

تین سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے فیول ایڈجسٹمنٹ ختم کرنے کا اعلان

علاوہ ازیں وزیراعظم نے خطاب کے دوران 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں