The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعظم کا اہم امور پر قوم سے خطاب کا امکان

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کا ملکی معاشی اور سیاسی صورتِ حال پر قوم کو اعتماد میں لینے کے لیے براہ راست خطاب کرنے کا امکان ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف جلد قوم سے خطاب ریں گے، وزیر اعظم نے سرکاری مصروفیات ترک کر دیں، انہوں نے پارٹی رہنماؤں سے معاشی و سیاسی امور پر بھی مشاورت مکمل کرلی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کے قوم سے خطاب کے نکات پر مشاورت جاری ہے۔

کچھ روز قبل بھی خبر آئی تھی ککہ وزیر اعظم شہباز شریف کا قوم سے خطاب کا امکان ہے جس میں وہ معاشی اور سیاسی حالات پر اعتماد میں لیں گے۔

خیال رہے کہ لندن میں مسلم لیگ (ن) ے رہنماؤں کی ملاقات میں قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر عام انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

لندن میں مسلم لیگ (ن) کے مشاورتی اجلاس میں پاکستان کی سیاست سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے تھے۔ الیکشن پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان سمیت کسی دباؤ کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اجلاس میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے تحریک انصاف کی قیادت کی گرفتاریاں نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی تھی۔ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی رہنمائی کریں گے۔ مفتاح اسماعیل کو آئی ایم ایف سے اچھی ڈیل لانے کا ٹاسک سونپ دیا گیا۔ شاہد خاقان عباسی کو معاشی مسائل پر مشاورت کے لیے لندن بلایا گیا ہے

مشاورتی اجلاس کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر ریلوے و ہوا بازی سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو کی تھی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ملکی معیشت سے متعلق مسلم لیگ (ن) اہم فیصلے لے چکی ہے، اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر اعلان کریں گے۔

اس دوران صحافی نے سوال کیا کہ کیا الیکشن اس سال ہوں گے؟ خواجہ آصف نے جواب میں کہا کہ کوئی نجومی نہیں کہ بتا سکوں الیکشن کب ہوں گے، ہم پر دباؤ صرف پاکستان کی عوام کا ہوسکتا ہے کسی اور کا نہیں، ہم پر صرف ہمارا ووٹر دباؤ ڈال سکتا ہے کوئی اور نہیں، چاہتے ہیں ملک میں استحکام آئے اور تباہی کا سدباب کیا جا سکے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ عوام خودمختار ہیں، ہم اور اتحادی اپنا کیس عوام کے سامنے رکھیں گے، 48 گھنٹے میں ہم پاکستان کی عوام کو اعتماد میں لیں گے، جو بھی مشاورت کی ہے اتحادیوں کے سامنے رکھیں گے، ہم تنہا کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں، اسٹیک صرف مسلم لیگ (ن) کا نہیں دیگر اتحادی جماعتوں کا بھی ہے، جب تک اتحادی آن بورڈ نہیں ہوں گے کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں