The news is by your side.

Advertisement

ڈیفنس انکاؤنٹر: اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے پولیس کے اہم اقدامات

کراچی: شہر قائد کے علاقے ڈیفنس فیز 4 میں مبینہ پولیس مقابلے سے متعلق پولیس نے اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے اہم اقدامات شروع کر دیے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ڈیفنس میں مبینہ مقابلے میں 5 ملزمان کی موت ہو گئی تھی، تاہم بنگلے کے مالکان نے سامنے آ کر اسے جعلی مقابلہ قرار دے دیا ہے، اس سلسلے میں ساؤتھ تفتیشی پولیس نے پنجاب پولیس سے ملزمان کا ڈیٹا مانگ لیا ہے، جس کی مدد سے کیس میں مزید پیش رفت ہو سکے گی۔

پولیس نے بنگلے کے مالک ایڈووکیٹ علی حسنین کے حوالے سے بھی تحقیقات شروع کر دیں، پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ڈاکو اور گینگ کے سربراہ غلام مصطفیٰ کا تعلق ضلع خانیوال سے تھا، ایڈووکیٹ علی حسنین کا آبائی تعلق بھی خانیوال سے ہے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ڈاکو موبائل پر سب سے زیادہ ایڈووکیٹ کے ڈرائیور سے رابطے میں رہا، وکیل کے ڈرائیور عباس نے ڈاکو غلام مصطفیٰ کو ڈبل کیبن گاڑی بھی دے رکھی تھی، 3 دن سے گاڑی ڈاکوؤں کے زیر استعمال تھی۔

ڈیفنس پولیس مقابلہ: ہلاک ڈرائیور کی مالکن نے تفصیلات بتا دیں

ادھر پولیس نے تمام متاثرین کو بھی طلب کر لیا ہے، تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین کی نشان دہی سے تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، 2 ملزمان کی لاشوں کو ان کے اہل خانہ شناخت کر چکے ہیں۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان سہولت کاروں کی مدد سے گھروں میں ڈکیتیاں کرتے تھے، ان سہولت کاروں میں ملازمین یا سابق ملازمین شامل ہوتے تھے، اور واردات کے لیے رکشے یاگاڑی کا استعمال کیا جاتا تھا۔

واضح رہے کہ مبینہ مقابلے میں ہلاک 4 ملزمان کی لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں، جن میں گینگ لیڈر غلام مصطفیٰ، عابد، ریاض اور عثمان شامل ہیں، جب کہ ہلاک ملزم محمد عباس کی لاش چھیپا سرد خانے میں تاحال موجود ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کے پولیس پر الزامات

دوسری طرف مقابلے میں ہلاک ڈرائیور عباس کی مالکن اسلام آباد سے واپسی پر سیدھا مقدمہ درج کرنے گزری تھانے پہنچ گئیں تاہم مقدمہ درج نہیں ہو سکا ہے، خاتون پی ٹی آئی رہنما لیلیٰ پروین نے الزام لگایا ہے کہ میرے ڈرائیور کو پولیس نے اغوا کر کے قتل کیا، ڈرائیور کا دہشت گروں سے تعلق نہیں تھا۔

واقعے سے متعلق بنگلے مالکان کا مؤقف سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کراچی قیادت نے پریس کانفرنس کا فیصلہ کیا تھا، تاہم بعد میں آج صبح ہونے والی پریس کانفرنس منسوخ کر دی گئی، ذرایع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما لیلیٰ پروین سے ملاقات کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی ذرایع کے مطابق لیلیٰ پروین کے پاس ثبوت ہوئے تو قیادت ساتھ دے گی، بہ صورت دیگر ان کو اکیلے اپنے کیس کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں