تازہ ترین

’پاکستان کیلیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے اچھی خبریں آئیں گی‘

امریکا میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے کہا...

پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا اہم بیان

اسلام آباد : پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے...

ملازمین کے لئے خوشخبری: حکومت نے بڑی مشکل آسان کردی

اسلام آباد: حکومت نے اہم تعیناتیوں کی پالیسی میں...

ضمنی انتخابات میں فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات کرنے کی منظوری

اسلام آباد : ضمنی انتخابات میں فوج اور سول...

طویل مدتی قرض پروگرام : آئی ایم ایف نے پاکستان کی درخواست منظور کرلی

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے...

پولیس افسر نے بغیر کسی احتیاطی تدابیر کے خط کھول لیا

لاہور: ہائی کورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط ملنے کے معاملے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک پولیس افسر نے بغیر کسی احتیاطی تدابیر کے خط کھول لیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ڈی ایس پی نے بغیر احتیاطی تدابیر کے جج کو ملنے والا ایک خط کھول لیا، خط میں پاؤڈر کا ایک ساشے تھا اور اس میں دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی تھی، خط کھولتے وقت اس سے کچھ پاؤڈر زمین پر بھی گرا۔

ججز کو ملنے والے خطوط میں خطرے کا کراس نشان بھی موجود ہے، یہ خطوط تحریک ناموس پاکستان کے نام سے بھیجے گئے ہیں۔

دوسری طرف پولیس ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی نے ہائیکورٹ میں بیان دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز کو بھی خطوط موصول ہوئے ہیں، عدالت عظمیٰ کے جن چار ججز کو خط ملے ہیں ان میں چیف جسٹس سپریم کورٹ، جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس جمال مندو خیل اور جسٹس امین الدین شامل ہیں۔

ججز کو موصول دھمکی آمیز خطوط کے معاملے پر ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی ہمایوں حمزہ چیف جسٹس کی عدالت میں آج پیش ہوئے۔ عدالت کے روبرو انھوں نے کہا کہ ججز کو موصول دھمکی آمیز خطوط کے معاملے پر ابھی تک کسی کے پاس آئی جی کا ایکٹنگ چارج ںہیں ہے، اسلام آباد پولیس کے تمام آپریشنز میں دیکھ رہا ہوں، کیمکل معائنے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں، تین سے چار دن میں رپورٹ آ جائے گی۔

ڈی آئی جی نے استفسار پر عدالت کو بتایا کہ خطوط پر اسٹمپ نہیں پڑھی جا رہی ہے، اس لیے پتا نہیں چل رہا ہے کہ انھیں کہاں سے پوسٹ کیا گیا ہے، ایس پی سی ٹی ڈی نے کہا خط جی پی او میں پوسٹ نہیں ہوا، کسی لیٹر باکس میں ڈالا گیا ہے، ہم اس لیٹر باکس کی سی سی ٹی وی اور ایریا کی معلومات لے رہے ہیں، اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

Comments

- Advertisement -