ہفتہ, جون 22, 2024
اشتہار

کراچی میں پولیس افسر کا بیٹے سے جھگڑا کرنے والے نوجوان پر سرعام وحشیانہ تشدد، لوہے کے راڈ سے مارتا رہا

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : گلستان جوہر میں بااثراسپیشلائزڈ یونٹ کے افسر نے بیٹوں کے ساتھ مل کر سولہ سال کےطالبعلم عبدالرحمان پر سرعام بہیمانہ تشدد کیا، والد نے آئی جی سندھ سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کردی۔

تفصیلات کے مطاق کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں میٹرک امتحانات کے دوران ہونے والا جھگڑا شدت اختیار کرگیا، بااثر اسپیشلائزڈ یونٹ کے افسرنے بیٹوں کے ساتھ مل کر سولہ سال کےطالبعلم عبدالرحمان پرسرعام تشدد کیا۔

پولیس افسر عبدالرؤف ساتھی حاشر،ریحان اور دیگر کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور جھگڑےکی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے۔

- Advertisement -

انسپکٹر عبدالرؤف نے بیٹوں اور ساتھیوں کے ساتھ نوجوان پر حملہ کیا، آہنی راڈسے طالبعلم کا سر پھاڑا، پیٹ اور چہرے پر لاتیں ماریں۔

پولیس افسر بیٹوں اور ساتھیوں سمیت طالبعلم پرسرعام تشدد کرتا رہا، ڈائریکٹر سٹی وارڈن کے ایم سی کا بیٹا عبدالرحمان تشدد سے شدید زخمی ہوا، جسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

زخمی طالب علم والد ڈائریکٹر سٹی وارڈن کے ایم سی راجہ رستم نے بتایا کہ بیٹے کے دوست کا اسکول میں حاشر سے جھگڑا ہوا تھا، جھگڑے میں حاشر کا بھائی ریحان بھی آگیا تھا، جس کے بعد رات ایک بجے دانیال اورقاسم نے میرے بیٹے کو گھر کے نیچے بلایا۔

والد کا کہنا تھا کہ عبدالرؤف نامی شخص لوہے کے راڈ سے بیٹے کو مارتا رہا، لوگ قریب آئےتوانہوں نےپستول نکال کرکہا میں ڈی ایس پی ہوں، بیٹے کے دماغ میں چوٹیں آئیں، 5گھنٹے تک اسپتال میں بے ہوش رہا، 2مرتبہ سی ٹی اسکین ہوئےاب تک اسپتال میں ہے۔

اسپیشلائز ڈیونٹ کے افسر اور ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا لیکن تفتیشی پولیس کو پتہ چلا پولیس والے کا معاملہ ہے تو پیچھے ہٹ گئے اوع کارروائی سے انکار کردیا، اپیل کرتے ہیں آئی جی سندھ ہمیں انصاف فراہم کریں۔

کراچی پولیس چیف نے گلستان جوہرمیں میٹرک امتحانات کے دوران لڑائی جھگڑے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے سے متعلق ایس ایس پی ایسٹ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی اور میرٹ پر تفتیش کرنےاور ملوث ملزمان کیخلاف سخت قانونی کاروائی کا حکم دے دیا۔

Comments

اہم ترین

نذیر شاہ
نذیر شاہ
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز کے کرائم رپورٹر ہیں

مزید خبریں