site
stats
اے آر وائی خصوصی

حماد صدیقی کی حمایت پر وسیم آفتاب اورعمران اسماعیل کی تند و تیز گفتگو

کراچی : پاک سرزمین پارٹی کے رہنما وسیم آفتاب نے کہا ہے کہ حماد صدیقی کو پتلی گردن کی وجہ سے بلدیہ فیکٹری کیس میں پھنسادینا مناسب عمل نہیں بلکہ مکمل تحقیقات کے بعد اصل ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ کسی معصوم کو تختہ دار پر نہ لٹکادیا جائے.

وہ اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں میزبان صدف عبدالجبار کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے، وسیم آفتاب کا کہنا تھا کہ جب تک عدالت سے حماد صدیقی کا جرم ثابت نہیں ہوجاتا تب تک اس کے ساتھ کھڑے ہیں البتہ اگر عدالت میں الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو ہم عدالت اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے.

وسیم آفتاب کا مزید کہنا تھا کہ اب تک جو انکشافات سامنے آئے ہیں اس کے بارے میں کچھ نہیں پتہ کہ آیا وہ متصدقہ بھی ہیں یا نہیں؟ اس لیے اس ہائی پروفائل کیس میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے اور ہم سب کو عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے اور اگر کسی کے پاس بھی کوئی ثبوت ہے تو اسے لے کرعدالت جانا چاہیئے.

اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما عمران اسماعیل نے پی ایس پی کے رہنما وسیم آفتاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا پی ایس پی میں آنے والے سب لوگوں گردنیں پتلی ہیں؟ کیا وسیم آفتاب سمیت دیگر لوگ اس وقت ایم کیو ایم کے اہم عہدے دار نہیں تھے جب سانحہ بلدیہ فیکٹری جیسا دلخراش واقعہ رونما ہوا ؟

عمران اسماعیل نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کے سابق عہدیدار ماضی کی تمام وارداتوں کے چشم دید گواہ ہیں اور جب کراچی میں قتل و غارت گری، بھتہ خوری اور دیگر جرائم عروج پر تھے تو یہ لوگ کیوں خاموش تھے اور کیا انہیں نہیں معلوم کے دہشت گردی کے ہر واقعے کے تانے بانے کہاں سے ملتے ہیں؟

سلمان مجاہد بلوچ کے ڈی جی رینجرز کو لکھے گئے خط کے حوالے سے وسیم آفتاب کا کہنا تھا کہ میں نے ان کے خط کے مندرجات نہیں پڑھے ہیں تاہم اگر عمران اسماعیل اور سلمان مجاہد سمیت کسی کے پاس بھی اس واقعے سے متعلق کوئی ثبوت ہے تو اسے عدالت سے رجوع کرنا چاہیئے.

اس موقع پر عمران اسماعیل نے کہا کہ سلمان مجاہد بلوچ اتنےدن سے خاموش تھے لیکن آج اچانک نیند سے بیدار ہوئے ہیں اور اس کی وجہ شاید وہ آڈیو پیغام ہے جس میں انہوں ایک بلدیاتی ملازم کو پٹرول نہ دینے پر قتل کی دھمکی تھی اور شاید یہ آڈیو منظر عام پر آنے کے بعد وہ ردعمل کے طور پر چار بلدیاتی افسران کی شکایت کر رہے ہیں تاہم اگر وہ ٹھیک ہیں تو ڈی جی رینجرز ضرور ایکشن لیں گے.

مردم شماری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں رہنما پی ایس پی وسیم آفتاب نے کہا کہ 2013 میں شہر کراچی میں جتنے بلاکس کی تعداد تھی وہ اب بڑھ گئی ہے تاہم حیران کن طور پر آبادی میں اضافہ نہیں ہوا اس کی وجہ یہ ہے حکومت مردم شماری کرانے میں سنجیدہ ہی نہیں تھی یہ تو بس سپریم کورٹ کے کہنے پر بادل نخواستہ کی گئی ہے.

اس سوال کے جواب میں سینیٹرسسی پلیجو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو مردم شماری کے اعداد و شمار پر شدید تحفظات ہیں جس کا ہر فورم پر برملہ اظہار کیا گیا ہے کہ سندھ کی دیہی علاقوں کو کم کر کے دکھایا گیا ہے جب کہ اسی طرح بلوچستان اور کے پی کے کے لوگ بھی سوال اُٹھا رہے ہیں چنانچہ اس کا کوئی ایسا حل نکالنا چاہیئے جس سے قومی وحدت متاثر نہ ہو.

عمران اسماعیل نے کہا کہ مردم شماری سے متعلق آئین پاکستان بالکل واضح ہے اس لیے تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ آئین کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس مسئلے کو قومی سطح پر اور سب کی مشاورت سے حل کرلیا جائے کیوں کہ آئندہ انتخابات سے قبل یہ مسئلہ دوبارہ کھڑا ہوسکتا ہے.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top