پولیس کو موصول ہونے والی بے مقصد لیکن مزیدار کالز -
The news is by your side.

Advertisement

پولیس کو موصول ہونے والی بے مقصد لیکن مزیدار کالز

دنیا بھر میں پولیس اپنے شہریوں کی سہولت کے لیے ایک ایمرجنسی نمبر جاری کرتی ہے جسے وہ پریشانی کی صورت میں وہ فوراً ڈائل کرسکیں۔ لیکن بعض اوقات شہری اس نمبر کو تفریح کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

مغربی ممالک میں پولیس کو روزانہ ایسی بے شمار کالز موصول ہوتی ہیں جن میں پولیس کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ ان میں سے کچھ کالز ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں فون کرنے والا اپنے گھر کے باہر کتے، بلی یا کسی اور جانور کی آوازوں سے پریشان ہوتا ہے۔

کینیڈا کے شہر نیوفاؤنڈ لینڈ میں تعینات کانسٹیبل جیف ہڈگن کے مطابق لوگ پولیس کو ایسے معاملوں کے لیے بھی فون کرتے ہیں جن کے لیے پولیس کچھ نہیں کر سکتی۔

انہوں نے بتایا، ’بعض لوگ ریڈیو پر چلنے والے پروگرامز سے بھی بور ہو کر پولیس کو فون کر دیتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہوتا ہے کہ ہم ریڈیو چینل کو ان کی مرضی کے پروگرام چلانے پر مجبور کریں۔ ہم سمجھ نہیں پاتے کہ یہ کالز کرنے والے کیا واقعی صحیح الدماغ لوگ ہوتے ہیں یا وہ ہمیں تفریح فراہم کرنے کے لیے ایسی کال کرتے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: کار میں بند کتوں کی حفاظت کے لیے فلوریڈا پولیس کا انوکھا اقدام

اس سلسلے میں پولیس ایک ہدایت نامہ بھی جاری کرچکی ہے جس میں شہریوں کو ہدایت دی جاتی ہے کن صورتوں میں وہ پولیس کو فون کرسکتے ہیں۔ اس کے باوجود پولیس کو بے مقصد یا ’پرینک‘ کالز کا سلسلہ جاری ہے۔

ایک غیر ملکی ادارے نے رواں سال پولیس کو کی جانے والی بے مقصد کالز کی فہرست جاری کی جن میں سے کچھ نہایت ہی وقت ضائع کرنے والی کالز سے آپ بھی لطف اندوز ہوں۔

لندن کے ایک پارک میں خاتون نے پولیس کو اس لیے کال کی کہ انہوں نے جس کلاؤن سے غبارے خریدے وہ وہاں موجود دیگر افراد سے زائد قیمت وصول کر رہا تھا۔ غبارے کی قیمت 5 ڈالر تھی۔

ایک خاتون نے پولیس کو کال کر کے شکایت کی کہ ریستوران سے خریدے جانے والے کباب ٹھنڈے تھے اور اب ریستوران مالک انہیں واپس نہیں لے رہا۔

ایک کالر نے صبح 4 بجے پولیس کو کال کی اور دریافت کیا کہ اس وقت شہر میں بہترین سینڈوچ کہاں دستیاب ہوں گے؟

ایک شخص کا 50 پینی کا سکہ واشنگ مشین میں پھنس گیا اور اس نے اسے واپس حاصل کرنے کے لیے پولیس کی مدد چاہی۔

مزید پڑھیں: پیزا میں کم پنیر کیوں؟ خاتون نے پولیس کو کال کردی

کچھ کالرز نے دیر سے اٹھنے پر اپنی فلائٹ مس کردی اور پھر پولیس سے مدد طلب کی کہ وہ انہیں ایئرپورٹ تک ڈراپ کرے۔

ایک شخص کھلے پیسہ نہ ہونے سبب کار پارکنگ انتطامیہ کو ان کی فیس نہیں دے سکا اور جب انہوں نے اسے فیس ادا کیے بغیر باہر جانے سے روک دیا تو اس شخص نے پولیس کو کال کردی کہ اسے اغوا کیا جارہا ہے۔

ایک خاتون نے پولیس کو فون کرکے شکایت کی کہ اس کے گھر میں 2 افراد گھس آئے ہیں اور اسے زبردستی لے جانا چاہتے ہیں۔ دراصل وہ 2 افراد پولیس اہلکار تھے جو چوری کے الزام میں اس خاتون کو گرفتار کرنے آئے تھے۔

آپ کو ان میں سے کون سی کال سب سے زیادہ وقت ضائع کرنے والی لگی؟ خبر کے نیچے کمنٹ کر کے بتائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں