The news is by your side.

Advertisement

حزب اللہ سے نمٹنے کیلئے گولان میں اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں‌ کی تیاریاں

بیروت/تل ابیب : اسرائیلی فوجیوں نے حزب اللہ سے نمٹنے کے لیے گولان میں ہبشان کے عسکری اڈے پر 100 اسکرین نصب کردی جس پر شام میں ہونے والے معاملات برائے راست نشر ہوتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شامی اراضی سے راکٹوں اور میزائلوں کے داغے جانے کے سلسلہ جاری رہنے کے بعد اسرائیلی کے اس موقف کو تقویت ملی ہے کہ ایران، شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ذریعے جنوبی لبنان کا تجربہ دہرانے اور گولان کے علاقے میں لڑائی کا سرگرم محاذ کھولنے کے درپے ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے خاموشی سے رینگنے کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل مقبوضہ گولان میں ایک ضخیم انٹیلی جنس نظام کے قیام کی تکمیل کر رہا ہے، اس نظام میں اسرائیل کے مختلف انٹیلی جنس ادارے اور ایجنسیاں شریک ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ گولان میں ہبشان کے عسکری اڈے سے اس نظام کو چلانے والے خفیہ آپریشن روم میں 100 اسکرین لگی ہوئی ہیں، شام میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ان اسکرینوں پر براہ راست نشر کیا جاتا ہے، ساتھ ہی جنوبی سرحدی علاقے پر بھی خصوصی توجہ مرکوز ہے۔

عرب ٹی وی کے مطابق رواں سال کے اوائل میں اسرائیلی انٹیلی جنس نے ایک شخص کی شناخت نشر کی تھی جس کے بارے میں یہ دعوی کیا گیا کہ ابو حسن ساجد نامی شخص کو حزب اللہ نے گولان میں محاذ قائم کرنے کی ذمے داری سپرد کر رکھی ہے۔

مزید یہ کہ ابو حسین حزب اللہ کے درجنوں کمانڈروں کے ساتھ مل کر سرحدی دیہات میں سیکڑوں شامیوں کو بھرتی کر رہا ہے تا کہ شامی حزب اللہ تشکیل دی جا سکے۔

اسرائیلی عسکری ذرائع کے مطابق یہ فورس ابھی زیر تشکیل ہے، اس نے آگے کے ٹھکانوں کا کنٹرول لینا شروع کر دیا ہے اور مختلف نوعیت کے ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، وہ زمینی مشقیں کر رہی ہے۔ اس کے کمانڈروں نے سرحدی علاقوں کے دورے شروع کر دیے ہیں تا کہ گولان میں اسرائیلی فوج کی تعیناتی کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کر سکیں۔

اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ یہ زیر تشکیل گروپ شامی فوج کے عسکری لباس میں ملبوس ہو کر معلومات جمع کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے جنوبی لبنان میں حزب اللہ ملیشیا کے ارکان لبنانی فوج کی عسکری وردیاں پہن لیتے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ اس کے مقابل ایران اور حزب اللہ نے گولان کے شمال میں جبل الشیخ کے علاقے سے لے کر مقبوضہ گولان کے جنوب میں الحمہ کے علاقے تک جاسوسی کا ایک مربوط نظام قائم کر لیا ہے۔

عرب میڈیا کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل ایران نے گولان پر 32 میزائل داغے تھے، اس کے بعد اسرائیل نے وسیع پیمانے پر حملوں کے ذریعے ایرانی جاسوسی کے ٹھکانوں کی ایک بڑی تعداد کو نشانہ بنایا۔

اسرائیل نے گولان کے محاذ کے قیام کو سبوتاڑ کرنے کے لیے کئی ایرانی جنرلوں اور حزب اللہ کے افسران کو موت کی نیند سُلا دیا مگر وہ عسکری اور انٹیلی جنس طور پر ہر چیلنج کرنے والی ایرانی کوششوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں