The news is by your side.

عمران خان کی پیشکش پر سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے، صدر

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے انٹرویو میں مثبت باتیں کی گئیں، ان کی پیشکش پر سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔

نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا: ’معاشی بحران اپنی جگہ لیکن سیاسی بحران کو تو ہم آپس میں حل کر سکتے ہیں، سیاسی استحکام ہوگا تو دنیا ہم پر اعتماد کرے گی، سیاسی عدم استحکام کا نقصان ملک کو ہو رہا ہے جس کے اثرات واضح ہیں، بحرانوں سے نکلنے کا واحد حل میرے خیال میں عام انتخابات ہیں، سیاسی بحران کو حل کرنا آسان ہے مگر بہت سے لوگ اس بحران سے نکلنا نہیں چاہتے‘۔

عارف علوی نے کہا کہ الیکشن سے متعلق سیاستدانوں میں بات چیت ہو سکتی ہے کیوں کہ عوام مشکل میں پھنسے ہیں، موجودہ حکومت محنت کر رہی ہے مگر مہنگائی سے عوام پریشان ہیں، ایسی حکومت بننی چاہیے جس پر عوام کا اعتماد ہو اور حکومت ان کے مسائل بھی حل کر سکے، ہمیں سارے مسائل حل کرنے ہیں مگر کہیں سے تو ابتدا کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا: ’بطور صدر اسٹیک ہولڈرز کے سامنے اپنی رائے رکھ سکتا ہوں، خاکہ اس صورت میں بنے گا جب سب مل کر اتفاق کریں گے، پاکستان اب مزید بحرانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، خوف ہے کہ معیشت ایسی جگہ نہ پہنچ جائے کہ پھر پاکستان کو سمجھوتے کرنا پڑیں‘۔

انٹرویو میں عارف علوی نے یہ بھی کہا کہ بات چیت کے لیے میرے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں، سیاسی استحکام کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ کچھ اِدھر کچھ اُدھر کر لیا جائے، میرے کہنے کا مطلب ہے کہ ایک دو مہینے اِدھر اُدھر کر لینے چاہئیں، ایسا ماحول بنانا چاہیے کہ سیاستدانوں کو بیٹھ کر بات کرنے کے لیے راضی کرنا چاہیے، یہ ہٹ دھرمی نہیں ہونی چاہیے کہ بات نہیں ہوگی، اس سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے، اس نہج پر نہ پہنچیں کہ تاریخ پھر ہمیں ذمہ دار ٹھہرائے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن میں چند ماہ رہ گئے ہیں، ہٹ دھرمی کا کسی کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ملک کا نقصان ہوگا، پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ کچھ ایشوز ہیں انہیں بیٹھ کر حل کرنا چاہیے، پی ٹی آئی کی حکومت گئی تو کہا کہ کچھ مسائل ہیں جنہیں حل کرنا چاہیے، نئے انتخابات، شفاف انتخابات اور معیشت پر کہا سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔

صدر مملکت نے کہا: ’سیاسی میچورٹی کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتیں معاشی پالیسیوں کا تسلسل رکھیں، حالات ایسے ہونے چاہئیں کہ لوگ بات کرنے کے راضی ہو جائیں، ہمیشہ بات چیت پر یقین رکھا ہے اور اب بھی کہتا ہوں کہ گفتگو ہونی چاہیے، رنجشیں دور ہو جاتی ہیں تو قریب آنے میں بھی وقت لگتا ہے، بطور سیاستدان میں اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہوں، ہمیں الفاظ کی پکڑ سے نکل کر سنجیدہ ایشوز پر بات چیت کرنی چاہیے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں