The news is by your side.

Advertisement

وفاقی کابینہ کا اجلاس: سفارشات کے تحت فاٹا خیبر پختونخوا کا حصہ بن جائے گا

اسلام آباد :وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کےاجلاس میں کابینہ نےفاٹااصلاحات کےلیےقانونی اور آئینی سفارشات منظورکرلیں۔

تفصیلات کےمطابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نےفاٹااصلاحات کمیٹی کی سفارشات کی اصولی منظوری دےدی۔

وفاقی کابینہ کی منظوری کےبعد سفارشات کےتحت فاٹاخیبرپختونخواکاحصہ بن جائےگا،اصلاحات کےبعد فاٹا میں ایف سی آرقوانین کاخاتمہ ہوجائےگااور فاٹامیں وفاق کا عمل دخل نہیں ہوگا۔

اس موقع پروزیراعظم نواشریف نےکہاکہ وفاق ،صوبوں پرلازم ہےان علاقوں کےعوام کی فلاح یقینی بنائیں،جبکہ قومی یکجہتی،مضبوطی کےلیےپاکستانیت کاجذبہ ضروری ہے۔

وزیراعظم نےکہاکہ تعصب سےبالاترہوکرملک کوترقی کےثمرات میں شریک کیاجائے،انہوں نےکہاکہ کم ترقی یافتہ علاقوں میں بھرپور توجہ دینا ہمارافرض ہے۔

میاں محمدنوازشریف نےکہاکہ فاٹا،گلگت بلتستان اورآزادکشمیر کو قومی دھارے میں لانے کے مخالفین صوبائیت کو فروغ دے رہے ہیں تاہم کسی بھی تمیز کے بغیر ہر پاکستانی کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع دیے جائیں۔

وفاقی کابینہ میں منظور کی گئی سفرشات میں کہاگیا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لیے5 سال درکارہوں گے، اس کے علاوہ فاٹا سے فوج کے انخلا کے لیےلیویز میں 20 ہزار مقامی افراد بھرتی کیےجائیں۔

وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والےوفاقی کابینہ کے اجلاس میں فاٹاکی معاشی ترقی کےلیےجامع اصلاحات کی جائیں اور این ایف سی میں فاٹا کےلیے3 فیصد حصہ مختص کیا جائے۔

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بینچزفاٹا میں قائم کیے جائیں اور اور قبائلی علاقوں میں جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔فاٹااصلاحات پرمرتب رپورٹ کےمطابق 2018کےانتخابات میں کےپی کےاسمبلی میں فاٹاکونمائندگی دی جائے۔

واضح رہےکہ رپورٹ میں فاٹاکاترقیاتی بجٹ 20کروڑ روپےسےایک ارب روپےتک بڑھانےکی تجویز دی ہے اور کہاگیاہےکہ آڈیٹرجنرل آف پاکستان فاٹامیں ترقیاتی فنڈزکےآڈٹ کویقینی بنائے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں