The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعظم عمران خان کا شوگر مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے ایک اور وعدہ پورا کر دکھایا، شوگر مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے شوگر مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا ہے، کرپٹ عناصر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، وزیر اعظم کا مؤقف ہے کہ حکمران خود ملوث نہ ہوں تو کرپٹ عناصر معاشرے میں پنپ نہیں سکتے۔

وزیر اعظم نے شوگر کمیشن رپورٹ کی بنیاد پر ایف بی آر، نیب، ایس ای سی پی اور ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، گورنراسٹیٹ بینک، مسابقتی کمیشن اور 3 صوبوں کو بھی اس سلسلے میں خطوط لکھ دیے گئے ہیں، یہ خطوط وزیر اعظم کی ہدایت پر مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے لکھے، جن کے ساتھ شوگر کمیشن رپورٹ بھی ارسال کی گئی ہے۔

وفاقی حکومت نے 90 روز میں عمل درآمد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے 23 جون کو اس سلسلے میں ایکشن پلان کی منظوری دی تھی۔

شوگر مافیا کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچا کر رہوں گا: وزیر اعظم

اب حکومت نے ایف بی آر کو ملک بھر کی تمام شوگر ملز کا آڈٹ کرنے کا کہہ دیا ہے، ایف بی آر سے کہا گیا ہے کہ شوگر ملز کی بے نامی ٹرانزیکشنز کی تحقیقات کی جائیں۔ نیب سے بھی شوگر ملز اور مالکان کے مالی معاملات کی تحقیقات کا کہا گیا ہے، نیب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شوگر کمیشن کے نتائج کی روشنی میں ذمہ داران کا تعین کرے۔

وفاقی حکومت کی ہدایت پر اسٹیٹ بینک بھی چینی ذخائر کے غلط استعمال اور مشکوک برآمدات کی تحقیقات کرے گا، شوگر ملز کو سبسڈی ادائیگی کے باوجود کاشت کاروں کو کم ادائیگی کیوں کی گئی، اس امر کی بھی تحقیقات ہوں گی، حکومت نے اسٹیٹ بینک کو شوگر ملز سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کا کہہ دیا ہے۔

ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کو بھی کارپوریٹ فراڈ کی تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے، ایس ای سی پی ذمہ داروں کا تعین اور قانون کے مطابق عمل درآمد کرے گا، جب کہ مسابقتی کمیشن سے شوگر مافیا کے خلاف اقدامات میں تاخیر پر وضاحت طلب کی گئی ہے، خط میں لکھا گیا ہے کہ کمیشن وجوہ کا تعین کرے کہ شوگر کارٹل کے خلاف ایکشن کیوں نہ ہوا۔

حکومتی ہدایت پر مسابقتی کمیشن ذخیرہ اندوزی اور یوٹیلٹی اسٹورز پر چینی کی عدم فراہمی کی بھی تحقیقات کرے گا۔

حکومت نے پنجاب، کے پی اور سندھ کے چیف سیکریٹریز کو بھی خط لکھ دیے ہیں جن میں ہدایت کی گئی ہے کہ صوبائی حکومتیں شوگر کمیشن رپورٹ کے پیش نظر مختلف شوگر ملز کی تحقیقات کریں، اور کم قیمت پر گنا خریدنے والی شوگر ملز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے، حکومت کے مطابق مختلف شوگر ملز کا معاملہ اینٹی کرپشن کے دائرہ اختیار میں ہے، صوبائی حکومتوں کو شوگر ملز کی جانب سے سود پر قرض دینے کی تحقیقات کا بھی کہا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ شوگر ملز مالکان کی جانب سے تاخیری حربے اپنائے گئے، تاہم حکومت نے شوگر مافیا کی جانب سے بلیک میل کرنے کی کوشش ناکام کر دی، شوگر کمیشن رپورٹ آنے کے بعد ملز مالکان نے اسے عدالتوں میں چیلنج کیا تھا، معاملہ عدالتوں میں زیر سماعت ہونے کے باعث تاخیر کا باعث بنا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں