The news is by your side.

Advertisement

شہزادہ جارج پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے شخص نے جرم کا اعتراف کرلیا

لندن : برطانوی شہزادہ ولیم کے 4 سالہ بیٹے جارج پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے دہشت گرد نے ایک سال بعد دوران تفتیش جرم کا اعتراف کرلیا۔ .

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے دارالحکومت میں شاہی خاندان کے چھوٹے شہزادے جارج پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے داعش کے دہشت گرد نے دوران تفتیش اعتراف کرلیا ہے کہ اس نے پرنس جارج پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ 32 سالہ حملہ آور حسنین راشد نے پولیس حراست قبول کرلیا ہے کہ داعش کے حمایتی نے اس پر شہزادے جارج پر اسکول میں حملہ کرنے کے لیے زور دیا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ حسنین راشد کو گذشتہ سال نومبر میں حراست میں لیا گیا تھا، تاہم حسنین نے ابھی تک اپنے جرم کا اقرار نہیں کیا تھا لیکن آج اچانک حسنین راشد نے شہزادے جارج پر حملے کی منصوبہ بندی کا اعتراف کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مذکورہ حملہ آور نے داعش کے حامی سے سماجی رابطے کی ویب سایٹ انسٹاگرام کے ذریعے 4 سالہ شہزادے جارج پر تھومس بیٹرسیا اسکول میں حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

خیال رہے کہ شہزادہ جارج تھومس بیٹرسیا اسکول تعلیم کے سلسلے جاتے ہوئے ایک ماہ ہی ہوا ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ راشد حسنین نے دوران تفتیش بتایا برطانیہ کے فٹبال گراؤنڈ میں دہشت گردانہ حملے کا خدشہ ہے اور اس کے بعد ایسا ہی حملہ ترکی کے بیسیکٹاس باہر بھی ہوسکتا ہے۔

پراسٹیکیوٹر کا کہنا تھا حسنین راشد نے دہشت گردی پھیلانے کے لیے پرنس جارج کے اسکول کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس کو دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا کہ پرنس دو ماسک پہنے دہشت گردوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ برطانوی عدالت نے مذکورہ شخص کو تین مرتبہ دہشت گردی پھیلانے کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ حسنین راشد پر اکتوبر 2016 سے اپریل 2018 تک کے الزامات کے تحت مقدمات بنائے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ حسنین راشد کو گذشتہ برس اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ عدالت نے حسنین راشد پر شدت پسندانہ مواد کی تشہیر کرنے کرنے کا بھی مقدمہ بنایا گیا ہے.


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں