The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ کی روس کو دھمکی

لندن: برطانیہ نے ایک بار پھر روس کو دھمکی دی ہے کہ یوکرین میں روس نواز حکومت آئی تو اس پر پابندیاں عائد کر دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے نائب وزیر اعظم اور سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے انصاف ڈومینک راب نے اتوار کو کہا ہے کہ برطانیہ کی حکومت ماسکو کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔

ڈومینک راب کا کہنا تھا کہ روس نے اگر یوکرین پر حملہ کرنے یا روس نواز سیاست دانوں کو اقتدار میں لانے کی کوشش کی تو برطانیہ اس پر معاشی پابندیاں عائد کر دے گا۔

واضح رہے کہ یوکرین کے معاملے پر یورپ، برطانیہ اور امریکا کی جانب سے روس کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جب کہ روس نے نیٹو اور امریکا سے سرحدوں سے فوج ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 11 دسمبر کو برطانوی وزیر خارجہ لِز ٹرَس نے کہا تھا کہ اگر روس نے یوکرین پر دوبارہ حملہ کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے موقع پر برطانوی وزیر خارجہ نے ماسکو حکومت پر زور دیا کہ وہ یوکرین میں فوجی مداخلت سے باز رہے۔

یوکرین تنازع: امریکا اور روس کے مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلا؟

نیٹو کے سیکریٹری جنرل ینس اسٹولٹن برگ نے 17 دسمبر کو ایک بار پھر ماسکو کو دھمکاتے ہوئے کہا تھا کہ یوکرین پر حملے کی روس کو بھاری قمیت چکانا پڑے گی۔ برسلز میں جارجیا کے وزیر اعظم اراکلی گار بیشویلی سے بات چیت کرتے ہوئے اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ نیٹو اپنے شرکا کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

اسی روز ماسکو میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے خبردار کیا کہ نیٹو کے رکن ملکوں کی جانب سے یوکرین کو اسلحے کی فراہمی کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے گی۔ جب کہ یورپی یونین نے روس کو یوکرین کے خلاف جارحیت پر سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ روس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی تیاریاں کر لی گئی ہیں۔

یوکرین پر کشیدگی میں واضح اضافے کے بعد امریکا نے منگل 19 جنوری کو خبردار کیا کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے، وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے نیوز کانفرنس میں کہا ’ہم اب ایسے مرحلے پر ہیں جس میں روس کسی بھی وقت یوکرائن پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔‘

Comments

یہ بھی پڑھیں