The news is by your side.

طویل بریک ڈاؤن، ملک میں 24 گھنٹے بعد بھی بجلی مکمل بحال نہ ہوسکی

بجلی کے انتظار میں دوسری صبح ہوگئی مگر شٹ ڈاؤن کو 24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود ملک میں مکمل طور پر بجلی بحال نہ ہوسکی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق گزشتہ روز صبح ساڑھے 7 بجے ملک بھر میں بجلی بریک ڈاؤن کے باعث معطل ہونے والی بجلی 24 گھنٹے سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود بحال نہ ہوسکی اور وزیر توانائی کا رات 10 بجے تک بجلی بحالی کا وعدہ وفا نہ ہوسکا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، لاہور، کراچی، حیدرآباد سمیت ملک کے کئی شہر ساری رات تاریکی میں ڈوبے رہے۔ گزشتہ روز صبح ساڑھے سات بجے سے بجلی غائب ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے معمولات زندگی درہم برہم ہوگئے۔

بجلی نہ ہونے کے باعث مختلف شہروں میں پانی کا بحران پیدا ہوگیا۔ میٹرو ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام ہوگیا۔ اسپتالوں میں آپریشن ملتوی کرنا پڑے۔ بجلی نہ ہونے سے پی ٹی سی ایل، انٹرنیٹ، اسمارٹ سسٹم بیٹھ گیا۔ موبائل ٹاورز سے رابطے میں مسائل کے باعث ایمرجنسی صورتحال میں موبائل صارفین کو رابطوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب پاور ڈویژن حکام کے لارے لپے جاری ہیں اور ان کی جانب سے اگلے چند کچھ گھنٹوں میں بجلی کی فراہمی مکمل بحال ہونے کا لالی پاپ دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ 10 ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی بدستور سسٹم سے آؤٹ ہے اور کول پاور پلانٹس کی 6 ہزار 600 میگا واٹ بجلی سسٹم میں واپس نہ آسکی جب کہ نیو کلیئر پاور پلانٹس کی 3 ہزار 500 میگاواٹ بجلی بحال نہیں ہو سکی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئلے، نیو کلیئر پاور پلانٹس بحال ہونے میں کم از کم دو سے تین دن لگاتے ہیں۔ فرنس آئل، گیس اور پانی سے چلنے والے پلانٹس چلنا شروع ہو چکے ہیں۔ جیسے جیسے پاور پلانٹس سسٹم میں شامل ہو رہے ہیں بجلی فراہمی شروع ہوگی۔ ٹرپ کرنے والے تمام پاور پلانٹس 2 دن تک واپس پیداوارشروع کردیں گے۔ شارٹ فال کے باعث کمپنیوں میں مختلف دورانیے کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں