The news is by your side.

Advertisement

ریزور پول: فرنچائز مالکان پی سی بی سے ناراض

پاکستان سپر لیگ کے فرنچائز مالکان ریزرو پول میں شامل کھلاڑیوں کے نام پر چیف سلیکٹر سے ناراض ہو گئے۔

گزشتہ روز پی سی ب نے پاکستان سپر لیگ 7 کے لیے 19 ریزرو کھلاڑیوں کے پول کا اعلان کیا تھا۔ ان 19 میں سے 15 کھلاڑی21 جنوری کو ٹیم ہوٹل پہنچیں گے، جہاں وہ پی سی بی کی طرف سے قائم کیے گئے ایونٹ منیجمنٹ انیورینمنٹ میں قیام کریں گے۔باقی چار کھلاڑی ایونٹ منیجمنٹ اینورینمنٹ کا حصہ تو نہیں ہوں گے تاہم انہیں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں طلب کیا جاسکے گا۔

ریزرو پول میں شامل 15 کھلاڑی:
عامر جمال (ناردرن)، ابرار احمد (سندھ)، عماد بٹ (بلوچستان)، عماد عالم (سندھ)، بسم اللہ خان (بلوچستان)، حسان خان (سدرن پنجاب)، خالد عثمان (خیبرپختونخوا)، مصدق احمد (خیبر پختونخوا)، ناصر نواز (ناردرن)، سلمان علی آغا (سدرن پنجاب)، طیب طاہر (سدرن پنجاب)، عمر امین (ناردرن)، عمر صدیق (سدرن پنجاب)، عثمان شنواری (ناردرن) اور وقاص مقصود (سینٹرل پنجاب)

باقی چار کھلاڑی: امام الحق (بلوچستان)، عمیر بن یوسف (سندھ)، سعود شکیل (سندھ) اور زاہد محمود (سندھ)

کھلاڑیوں کی ابتدائی فہرست فرنچائزز نے تیار کی، بعدازاں جس کا جائزہ لینے کے بعد چیف سلیکٹر محمد وسیم نے آسٹریلیا سیریز میں شامل قومی ٹیسٹ اسکواڈ کے ممکنہ کھلاڑیوں کی جگہ متبادل کھلاڑیوں کو شامل کیا۔ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کے ممکنہ کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ آئندہ ہفتے سے شروع ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فرنچائز مالکان ریزرو پول میں شامل کھلاڑیوں کے نام پر چیف سلیکٹر سے ناراض ہو گئے ہیں۔ فرنچائزمالکان نےمشاورت کےساتھ 15نام فائنل کئےتھے لیکن چیف سلیکٹرنے 4نام نکال کراپنی مرضی کے 4 نام شامل کر دیے۔

فرنچائزمالکان جوکھلاڑی مانگ رہےتھےوہ ٹیسٹ کیمپ کاحصہ ہیں ٹیسٹ کیمپ کاحصہ ہونےکی وجہ سےریزورپول میں ردوبدل کیاگیا۔

فرنچائزمالکان کاشکوہ ہے کہ پی سی بی نے ہمیں پہلےسے اعتماد میں کیوں نہیں لیا؟ بتایا جاتا ہم خود کھلاڑی کا نام فائنل کرتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں