The news is by your side.

Advertisement

کھلاڑیوں کو ذہنی تناؤ سے بچانے کے لئے آئی سی سی کا بڑا اقدام

دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کھلاڑیوں کی صحت سے متعلق بڑا فیصلہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق کرکٹ کی عالمی گورننگ باڈی ’انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران کھلاڑیوں میں کرونا سیفٹی ببل میں رہتے ہوئے ذہنی صحت سے متعلق بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کے لیے ماہرین نفسیات کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

آئی سی سی کی جانب سے یہ فیصلہ حالیہ مہینوں میں وبا کے باعث کھلاڑیوں میں ذہنی تناؤ کے کیسز سامنے آیا ہے، جس کی مثال انگلینڈ کے آل راؤنڈر بین اسٹوکس ہیں جو ذہنی صحت کے مسائل کی وجہ سے کئی ماہ کرکٹ سے دور ہیں جبکہ دیگر معروف کھلاڑیوں نے بھی مختلف دوروں اور ٹورنامنٹس کے دوران بائیو سکیورڈ ببلز کے دباؤ کی شکایت کی۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سکیورٹی اور بائیو سیفٹی کے سربراہ الیکس مارشل نے صحافیوں کو بتایا کہ ’کچھ کھلاڑی یقیناً اس (بائیو ببل) سے متاثر ہوں گے، ان کی ذہنی صحت دوبارہ محدود حالات میں رہنے سے متاثر ہوگی، خاص طور پر ان لوگوں کی جو طویل عرصے سے ایسے حالات میں رہ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی سی کھلاڑیوں کی مدد کے لیے چوبیس گھنٹے دستیاب ہو گی اور مدد مانگنے والا کوئی بھی کھلاڑی ایک ماہر نفسیات سے کسی بھی وقت بات کر سکے گا، ایونٹ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ہم بہت سارے وسائل بھی فراہم کر رہے ہیں لہذا لوگ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ان کے لیے اس مسئلے کو حل کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: ورلڈ کپ: قومی ٹیم میں تبدیلیوں کا امکان

بائیو سیفٹی کے سربراہ الیکس مارشل کا کہنا تھا کہ سیلفی لینے کے خواہش مند شائقین کو کھلاڑیوں سے دور رکھا جائے گا، انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اس دانش مندانہ دوری کو برقرار رکھتے ہیں اور وہ ان نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہیں تو ہمیں پورے ٹورنامنٹ میں دوسری پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اس لیے ورلڈ کپ کے دوران سیلفی لینا ممکن نہیں ہو گا۔

واضح رہے کہ کھلاڑیوں اور معاون عملے کو یو اے ای آمد پر چھ دن آئیسولیشن میں گزارنا ہوں گے اور ایک کنٹرولڈ ماحول میں ٹریننگ کے لیے جانے سے پہلے تین کرونا ٹیسٹ کلیئر کرنا ہوں گے۔

یاد رہے کہ سترہ اکتوبر سے متحدہ عرب امارات اور عمان میں شروع ہونے والے ورلڈ کپ میں 16 ممالک کی ٹیمیں ایک ماہ تک جاری رہنے والے ٹورنامنٹ کے دوران زیادہ تر اپنے ہوٹلز تک محدود رہیں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں