The news is by your side.

Advertisement

علیم خان اورجہانگیرترین کے آزادامیدواروں سےکامیاب رابطے، پنجاب میں عددی اکثریت ملنے کا امکان

لاہور : پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان اور جہانگیر ترین کے آزاد امیدواروں سے کامیاب رابطوں کے بعد پی ٹی آئی کو آج پنجاب میں عددی اکثریت ملنے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق عام انتخابات 2018 میں نمایاں کامیابی کے بنی بعد بنی گالہ میں مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے جوڑ توڑ اور سیاسی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پنجاب میں حکمرانی کی بساط پر مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف آمنے سامنے ہیں ، اکثریت کے باوجود ن لیگ تنہائی کا شکار ہے جبکہ تحریک انصاف کی پوزیشن مضبوط ہیں۔

علیم خان اور جہانگیر ترین نے آزاد امیدواروں سے کامیاب رابطوں میں کامیاب ہوگئے، فیصل آباد اور ڈی جی خان سے 5 آزاد امیدواروں نے حمایت کا یقین دلایا۔

ڈی جی خان سے حنیف پتافی، لیہ سے رفاقت گیلانی ، کبیروالا سے حسین جہانیاں ،مظفر گڑھ سے علمدار قریشی اور طاہر رندھاوا تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔

جس کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے اب تک 16 ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا جارہا ہے، آزادامیدواروں کی حمایت پرپی ٹی آئی پنجاب میں بڑی جماعت ہوگی۔

پی ٹی آئی وفاق میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لئے بھی سر گرم ہے، پی ٹی آئی رہنماؤں کی ایم کیوایم اراکین کے ساتھ ملاقات آج متوقع
ہے جبکہ اتحادی جماعتیں ق لیگ، عوامی مسلم لیگ، بی اے پی اور جی ڈی اے پہلے ہی حمایت کا یقین دلا چکی ہیں۔

گذشتہ روز قومی اسمبلی کیلئے منتخب پہلا آزاد رکن این اے تیرہ مانسہرہ سے صالح محمد نے بنی گالہ اسلام آباد میں عمران خان سے ملاقات کی اور پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن نے بھی جنوبی پنجاب سےتعلق رکھنے والے ارکان سے رابطے کئے، جنوبی پنجاب کے 5 ارکان کی حمزہ شہباز کوحمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ن لیگ کی جانب سے اب تک 18 ارکان سے رابطوں کا دعویٰ کیا جارہا ہے، ق لیگ کی پنجاب میں ن لیگ کے فارورڈ بلاک کے لیے کوششیں جاری ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی کے لیے کامیاب آزاد ارکان کی تعداد 27 ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے نتائج کے مطابق ن لیگ129 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ تحریک انصاف کا 123 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبرپر ہے، پنجاب اسمبلی میں حکومت بنانے کیلئے 149 نشستوں کی ضرورت ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں