The news is by your side.

Advertisement

لوکی میں جان لیوا زہر بھی ہوتا ہے؟

لوکی مقبول عام سبزی ہے جس کا سالن کے ساتھ حلوہ بھی بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے لیکن اسی لوکی میں جان لیوا زہر بھی ہوسکتا ہے۔

لوکی ہر گھر میں استعمال ہونے والی معروف عام سبزی ہے جو اپنے لذیذ ذائقے اور صحت بخش خصوصیات کے باعث اکثر لوگوں کی پسندیدہ خوراک میں شامل ہے۔ قدرتی طور پر بے شمار فوائد سے مالا مال یہ سبز رنگ کی سبزی انسانی جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے دیتی ساتھ ہی وٹامن سی، اے اور کے کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ہے اور اس میں سوڈیم، کیلشیئم، فولاد، زنک اور میگنیشیئم جیسی مفید معدنیات بھی پائی جاتی ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ لوکی کولیسٹرول کی خراب سطح کو کم کرکے صحتمند دل کو بھی فروغ دیتی ہے اس کے ساتھ یہ سبزی جسمانی وزن کم کرنے، قبض اور دل کے لیے بھی پسندیدہ گھریلو علاج ہے، اسے ذیابیطس کے لیے بھی بہت مؤثر دوا کہا جاتا ہے۔

اب قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ لوکی کے تو اتنے فوائد ہیں تو زہر کہاں ہے؟

تو جناب یہ حقیقت ہے کہ صحت کے لیے انتہائی مفید اس سبزی میں زہریلے مادے بھی موجود ہوتے ہیں لیکن یہ ہر لوکی میں نہیں بلکہ صرف کڑوی لوکی میں ہوتے ہیں۔

لوکی میں زہریلے tetracyclic triterpenoid مرکبات ہوتے ہیں جنہیں cucurbitacins کہتے ہیں اور یہی مواد اس میں کڑوے ذائقے اور زہریلے پن کا سبب ہوتےہیں، لوکی کا پودا اس زہر کو سبزی خور جانوروں کے خلاف دفاعی طریقہ کار کے طور پر پیدا کرتا ہے۔

ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کڑوی لوکی کا جوس 50 سے 300 ملی لیٹر استعمال کرنے سے معدے سے خون بہنا اور اسہال جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں اور اگر کوئی اس حد سے تجاوز کرتا ہے تو پھر بیماری کی علامات شدید نوعیت کی بھی ہوسکتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق کڑوی لوکی میں موجود زہریلا مواد سائنائیڈ کے برابر ہوتا ہے اور اس کا استعمال پیٹ میں درد، قے، اسہال اور یہاں تک کہ موت کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے طبی ماہرین کڑوی لوکی کو استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں