پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سافٹ ڈرنگ کی فروخت پر پابندی کا اعلان Soft-Drinks
The news is by your side.

Advertisement

پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سافٹ ڈرنک کی فروخت پر پابندی

لاہور: پنجاب فوڈ اتھارٹی نے صوبے کے تمام تعلیمی میں سافٹ ڈرنک پر پابندی لگانے کا اعلان کردیا جس کا اطلاق 14 اگست کے بعد سے ہوگا۔

ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل کے مطابق پنجاب کے تمام تعلیمی اداروں میں 14 اگست کے بعد سے سافٹ ڈرنک کی فروخت پر قانونی پابندی عائد ہوگی، اس ضمن میں تمام تعلیمی اداروں اور کمپنیوں کو ہدایات جاری کردی گئیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چودہ اگست کے بعد تمام کمپنیاں اس بات کی پابند ہوں گی کہ وہ تعلیمی اداروں میں سافٹ ڈرنک سپلائی نہ کریں تاہم خلاف ورزی کرنے والی کمپنی اور تعلیمی ادارے کو قانون کے تحت سزا دی جائے گی، یونیورسٹی، کالجز اور اسکولوں میں موجود تمام کینٹین مالکان کو بھی پابندی سے متعلق آگاہ کردیا گیا۔

ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ سافٹ ڈرنک کی پابندی حفاظتی تدابیر کے تحت لگائی گئی ہے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک امریکا، سعودی عرب، دبئی اور مختلف عرب ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں سافٹ ڈرنک کی فروخت پر مکمل پابندی ہے کیونکہ اس سے طالب علموں کی صحت شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

پڑھیں: پنجاب فوڈ اتھارٹی میں پہلوانوں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ صوبے کے تمام اسکولوں میں کھانے پینے کی اشیاء سے متعلق ضابطہ اخلاق بنایا جارہا ہے اس کے تحت اشیاء کو بالترتیب لال ، زرد اور ہرا رنگ دیا جائے گا، لال رنگ کی اشیاء پر مکمل پابندی ہوگی اور سافٹ ڈرنک سمیت دیگر اشیاء کا شمار بھی اسی میں کیا جائے گا جبکہ زرد اور ہری اشیاء کی فروخت منظوری کے بعد فروخت کی اجازت دی جائے گی۔

نورالامین مینگل کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ضابطہ اخلاق کی پابندی کروانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جو مختلف اوقات میں چھاپہ مار کروائیاں کریں گی اور خلاف ورزی کرنے والے اسکول مالکان کے خلاف آئین کے مقدمہ درج کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پنجاب کے45کوکنگ آئل اور گھی مضر صحت قرار

ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے مزید کہا کہ سافٹ ڈرنک کی فروخت پر چودہ اگست کے بعد مکمل پابندی ہوگی اور اس کا اطلاق 13 ستمبر تک ہوگا، پابندی پر مکمل عملدرآمد کے لیے ٹیمیں تعلیمی اداروں کا دورہ کریں گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں