site
stats
پاکستان

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر: پنجاب حکومت کا عدالت جانے کا فیصلہ

Shehbaz Sharif

لاہور: لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا فیصلہ آنے کے بعد پنجاب حکومت نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے تھوڑی ہی دیر قبل سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا محفوظ فیصلہ سنا دیا۔

مزید پڑھیں: عدالت کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم

فیصلہ سامنے آتے ہی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اہم اجلاس طلب کرلیا۔ اے جی آفس میں جاری اجلاس میں وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ، سیکریٹری داخلہ اور سینئر وکلا شریک ہیں۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے پر غور کر رہی ہے اور ممکنہ طور پر رپورٹ شائع کرنے کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی 2 دن میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کی منظوری دے دی۔ اپیل میں رپورٹ پبلک کرنے کے حکم پر حکم امتناع حاصل کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیشی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کی درخواست سانحے میں مارے جانے والوں کے لواحقین اور متاثرین کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کیس زیر سماعت ہے، تفتیشی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی جارہی۔ عدالت جوڈیشل انکوائری رپورٹ شائع کرنے کا حکم دے۔

درخواست میں حکومت پنجاب کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ منظر عام پر آنے سے ذمہ داروں کا تعین ہوگا۔ انکوائری رپورٹ منظر عام پر لا کر مقتولین کے ورثا کو جلد انصاف کی فراہمی کا عمل ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ 3 سال قبل لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی جانب سے منہاج القرآن مرکز کے ارد گرد سے رکاوٹیں ہٹانے کے نام پر آپریشن کیا گیا جہاں کارکنوں اور پولیس کے درمیان مزاحمت ہوئی۔

اس دوران پولیس کے شدید لاٹھی چارج کے سبب 14 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top