The news is by your side.

Advertisement

محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی جانب سے کالے ہرن کے شکار کی دعوت

بہاولپور: صوبہ پنجاب کے محکمہ تحفظ جنگلی حیات نے نایاب کالے ہرن اور چنکارہ کے شکار کا مقابلہ منعقد کرنے کا اعلان کردیا۔

صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور میں محکمہ تحفظ جنگلی حیات نے نایاب کالے ہرن اور چنکارہ کے شکار کے لیے باقاعدہ مقابلہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بہاولپور کے سفاری پارک میں ایک طرف نایاب جانوروں کے تحفظ کی تلقین کرتا بورڈ لگا ہے دوسری طرف حکومتی سرپرستی میں ہنٹنگ ایریا بنایا گیا ہے جہاں شکاریوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا جارہا ہے۔

deer-1
مقامی روزنامے میں محکمہ کی جانب سے شائع شدہ اشتہار

پارک میں محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے تحت ’کالے ہرن کا شکار ۔ ایک صحت مند سرگرمی‘ کا بینر بھی آویزاں ہے۔

کالے ہرن کے شکار کے لیے 2 لاکھ روپے جبکہ چنکارہ کے شکار کی قیمت 75 ہزار روپے وصول کی جارہی ہے۔

نایاب کالے ہرن کا شکار کرنے والے ممبران قومی اسمبلی کے خلاف مقدمہ *

پارک کے ایک گارڈ نے انکشاف کیا کہ روزانہ یہاں تقریباً 16 کالے ہرن اور چنکارہ شکار کیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ بہاولپور کے صحرائے چولستان میں کالے ہرن کی نسل معدوم ہوگئی تھی جس کے بعد امریکا اور نیدر لینڈز نے اس نایاب نسل کو زندہ رکھنے کے لیے مالی معاونت کی۔ اس کے باوجود اب حکومت پنجاب ان عطیات کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی کا سامان مہیا کررہی ہے۔

واضح رہے کہ متنوع جنگلی حیات کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان شکاریوں کے لیے ایک جنت ہے جہاں کالے ہرن، چنکارہاور تلور کے شکار کے لیے غیر ملکی شکاری بھی آتے ہیں۔

کیا ہم جانوروں کو معدومی سے بچا سکیں گے؟ *

اس سے قبل سپریم کورٹ کی جانب سے تلور کے شکار پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم رواں برس کے آغاز میں سپریم کورٹ نے ہی اس پابندی کو کالعدم قرار دے دیا۔


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں