The news is by your side.

Advertisement

پنجاب کے وزیر جنگلی حیات کابینہ سے فارغ، اندرونی کہانی سامنے آ گئی

لاہور: پنجاب کے وزیر جنگلی حیات اسد کھوکھر کو کابینہ سے فارغ کر دیا گیا، ان کا استعفیٰ بھی منظور کر لیا گیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق صوبائی وزیر جنگلی حیات اسد کھوکھر کابینہ سے فارغ کر دیے گئے، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان سے مشاورت بھی کی تھی۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ اسد کھوکھر کو وزیر بنانے پر شدید تنقید کی گئی تھی، انھیں وزیر اعظم سے مشاورت پر ہٹانے کا فیصلہ تھا، تاہم اسد کھوکھر نے ہٹائے جانے سے قبل خود ہی استعفیٰ دے دیا۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندے خواجہ نصیر کے مطابق اسد کھوکھر سابق کمشنر آصف بلال لودھی کے بڑے سفارشی تھے، کمشنر لاہور کو دوبارہ تعینات کرنے کے لیے اسد کھوکھر نے سفارش کی تھی، ہفتے کی رات وزیر اعظم کے حکم پر کمشنر لاہور کو تعیناتی کے صرف 7 روز بعد عہدے سے ہٹایا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمشنر لاہور کی تعیناتی پر پی ٹی آئی لاہور کے وزرا کو شدید اختلافات تھے، وزیر اعظم نے دونوں کو ہی عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا۔

معافی کی کوششیں ناکام ، رکن اسمبلی عظمیٰ کاردار سے استعفیٰ لینے کی تیاریاں

ادھر رکن اسمبلی عظمیٰ کاردار کی وزیر اعظم، ان کی اہلیہ اور عثمان بزدار کے خلاف آڈیو ٹیپ کے معاملے پر معافی کی کوششیں رائیگاں چلی گئی ہیں، پی ٹی آئی قیادت نے عظمیٰ کاردار سے اسمبلی رکنیت سے استعفے کا کہہ دیا ہے، کہا جا رہا ہے کہ عظمیٰ سے استعفیٰ لینے کی تیاری مکمل کی جا چکی ہے۔

یاد رہے کہ اپریل میں ایف آئی کی جانب سے آٹا اور چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ جاری ہونے کے بعد وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری نے استعفیٰ دے دیا تھا جسے وزیر اعلیٰ پنجاب نے منظور کیا۔

اس سے قبل خیبر پختون خوا میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے، ان کا استعفیٰ وزیر اعظم نے منظور کیا تھا۔ پی ٹی آئی سینئر رہنما افتخار درانی کا شمار وزیر اعظم کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں