The news is by your side.

Advertisement

آج ممتاز شاعر قابلؔ اجمیری کا یومِ پیدائش ہے

آج سے پچاسی سال قبل 27 اگست1931ءکو اجمیرکے ایک قصبہ  “چرلی” کے متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے عبد الرحیم کے والد عبدا لکریم صاحب اجمیر میں ٹھیکیداری کا کام کرتے تھے۔ ابھی یہ بچہ صرف ساڑھے چھ سال کا ہی تھا کہ والدہ اس دار فانی سے کوچ کرگئیں ابھی اس حادثہ کو گزرے  چھ ماہ ہی ہوئے تھے کہ باپ کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا جس کے بعد اُن کے دادا نے پرورش کی انہوں نے ابتدائی تعلیم دارالعلوم معنییہ عثمانیہ اجمیرمیں حاصل کی لیکن حصولِ معاش کے سبب سے تعلیم کو نا مکمل چھوڑنا پڑا۔

پندرہ سال کی عمر سے شعر کہنے والے عبدالرحیم نے اپنا تخلص قابل اجمیری اپنایا شاعری کا شوق ان کوارمان اجمیری کے پاس لے گیا اوران سے اصلاح سخن لینے لگے۔

اسی زمانے میں مولانا عبدالباری معنی اجمیری مہتمم دارالعلوم مغیثیہ عثمانیہ کے مکان پر شعراء اور اہل قلم حضرات کی نشست رہتی تھی اور یہی وہ جگہ تھی جو منبع فیوض تصور کی جاتی تھی پھر قابل اس محفل کی طرف رجوع ہوئے وہیں کی صحبت کا فیض ہے کہ ان میں صحیح شعری ذوق و شعور پیدا ہوا۔

1947 کے فسادات میں دوسرے تمام مسلمانوں کی طرح ان کو بھی ترکِ وطن کرنا پڑا, پاکستان آ کر حیدر آباد میں سکونت اختیار کی اور 1948 میں ڈاکٹر نامی اور مخدوم محمد یوسف مرحوم کی مدد سے ایک ہفت روزہ “شاہین” جاری کیا

1949 کے اواخر میں ٹی بی کا موذی مرض حملہ آور ہوا بیماری کے شروع میں پَس اندازکیا ہوا پیسہ  دوا اور ڈاکٹروں کے نذر ہو گیا  چونکہ مستقل کوئی ذریعہ معاش نہ تھا اس لئے علاج بھی باقاعدگی سے نہ ہو سکادن یوں ہی گذرتے رہے اور فن کار کے سینے کے زخم مہکتے رہے۔

qabil ajmairi

قدرت کی ستم طریفی کہ سمندِ ناز پر ایک اور تاز یانہ اس وقت پڑا جب  قابل کا آخری سہارا صرف دو سال چھوٹا بھائی اور قوتِ بازو بھی بیمار ہو گیا اور وہ خالق حقیقی سے جا ملا۔
۔1951 میں جب ایک شاعر کی حیثیت سے ان کی شہرت عام ہوئی تو عوام نے ذاتی صورت میں دلچسپی لینی شروع کی اور جب لوگوں نے اس فن کار کی غربت اور بیماری کو دیکھا تو صرف یہی نہیں کہ صاحبِ اقتدار حضرات کو توجہ دلانے کی کوشش کی بلکہ اخبارات کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایک شاعر گم نامی کے عالم میں ایڑیاں رگڑ رہا ہے  لہذا وزارتِ صحت اس کے علاج کا کوئی معقول اِنتظام کرے۔

تا ہم حکومت کی جانب سے نہ کوئی مدد آنی تھی نہ آئی، یوں مفلسی، غربت اور ناقدری کے باعث محض 31 سال کی عمر میں قابل اجمیری دار فانی سے کوچ کر گئے بعد ازاں سندھ حکومت نے انہیں  ’’شاعر سندھ‘‘ کے خطاب سے نوازا۔

قابل کی شاعری میں زندگی کی تلخیاں اور نفسیات کی باریکیاں ایسی سموئی ہوئی ہیں جس طرح ایک کامل مصوّر مختلف زنگوں کے مزاج اور خطوط کی کشید سے ایک ایسی تصویر بناتا ہے کہ دیکھنے والوں پر سحر کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔

کتابیں و کلیات

پہلا مجموعہ کلام ۔۔۔ دیدہ بیدار ۔۔۔۔۔۔۔ 1963ء
دوسرا مجموعہ کلام ۔۔۔۔ خونِ رگِ جاں  ۔۔۔۔ 1966ء
کلیاتِ قابل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1992ء

قابل اجمیری کے شعری نمونے 

’’ تمہیں خبر بھی ہے یارو کہ دشتِ غربت میں

ہم آپ اپنا جنازہ اٹھائے پھرتے ہیں

ضبط غم کا صلہ نہ دے جانا

زندگی کی دعا نہ دے جانا

بیکسی سے بڑی امیدیں ہیں

تم کو کوئی آسرا نہ دے جانا ‘‘

منتخب اشعار

’’ بے کسی سے بڑی امیدیں ہیں

تم کوئی آسرا نہ دے جانا

کوئی احسان کر کے قابل پر

دوستی کی سزا نہ دے جانا ‘‘


 

’’ضبط غم کا صلہ نہ دے جانا

زندگی کی دعا نہ دے جانا

بیکسی سے بڑی امیدیں ہیں

تم کو کوئی آسرا نہ دے جانا‘‘


’’ اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو

زندگی کتنی خوبصورت ہے

جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ

زندگی کو مری ضرورت ہے ‘‘


’’ کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں

زندگی آج ترا قرض چکا دیتے ہیں

تیرے اخلاص کے افسوں ترے وعدوں کے طلسم

ٹوٹ جاتے ہیں تو کچھ اور مزا دیتے ہیں‘‘


’’خلش بڑھ کر فغان ہو جائے گی کیا

محبت داستاں ہو جائے گی کیا

اڑا جاتا ہے قابل ذرہ ذرہ

زمیں بھی آسماں ہو جائے کیا ‘‘


’’ خیالِ سود نہ اندیشہ زیاں ہے ابھی

چلے چلو کہ مذاقِ سفر جواں ہے ابھی

رکا رکا سا تبسم، جھکی جھکی سی نظر

تمہیں سلیقہ بے گانگی کہاں ہے ابھی

سکونِ دل کی تمنا سے فائدہ قابل

نفس نفس غمِ جاناں کی داستاں ہے ابھی ‘‘


’’ بہت نازک طبیعت ہو گئی ہے

کسی سے کیا محبت ہو گئی ہے

نہیں ہوتی کہیں صرفِ تماشا

نظر تیری امانت ہو گئی ہے

کہاں اب سلسلے دار و رسن کے

محبت بھی ندامت ہو گئی ہے

غمِ دوراں کی تلخی بھی جنوں میں

ترے رُخ کی ملاحت ہو گئی ہے

خبر کر دو اسیرانِ فلک کو

مری دنیا بھی جنت ہو گئی ہے ‘‘

ذبان ذد عام غزلیں

’’ تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے

میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے

مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو

مگر کچھ اپنے لئے بھی سوچا میں یاد آیا تو کیا کرو گے

کچھ اپنے دل پہ بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک

مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے

ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ لیکن

تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے

ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو، بگڑ کے قابل سے جا رہے ہو

مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کرو گے ‘‘

’’ وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد

سحر تھی شام سے پہلے سحر ہے شام کے بعد

مجھی پہ اتنی توجہ مجھی سے اتنا گریز

مرے سلام سے پہلے مرے سلام کے بعد

چرغِ بزمِ ستم ہیں ہمارا حال نہ پوچھ

جلے تھے شام سے پہلے بجھے ہیں شام کے بعد

یہ رات کچھ بھی نہیں تھی یہ رات سب کچھ ہے

طلوعِ جام سے پہلے طلوعِ جام کے بعد

رہِ طلب میں قدم لڑکھڑا ہی جاتے ہیں

کسی مقام سے پہلے کسی مقام کے بعد ‘‘

بشکریہ: پروفیسر ارشد رضا

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں