The news is by your side.

Advertisement

پروفیسر طارق رمضان کو قطر سے سالانہ 35 ہزار یورو کی ادائیگی کا انکشاف

پیرس : جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار پروفیسر طارق رمضان کو یورپی ممالک میں اخوان المسلمون سرگرمیاں بڑھانے کیلئے قطر کی جانب سے ہزاروں یورو سالانہ فراہم کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق فرانسیسی حکومت کی مانیٹرنگ کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے طارق رمضان قطری حکومت کے لیے مشیر کی خدمات بھی انجام دیتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ قطر فاﺅنڈیشن انہیں مشیر کی خدمات انجام دینے کے عوض ہر ماہ پینتیس ہزار یورو کی خطیر رقم فراہم کرتی ہے۔

قطر فاﺅنڈیشن نے اخوان المسلمون کے کے بانی حسن البنا کے پوتے طارق رمضان کو دوحہ لانے اور ان سے استفادہ کرنے کی سہولت مہیا کی اور ان کی خدمات کے حصول میں اخوان کے روحانی پیشوا یوسف القرضاوی نے بھی مدد فراہم کی۔

فرانسیسی حکام کی تحقیقات کے مطابق پروفیسر طارق رمضان کو یکم جون 2017ء کو قطر کی طرف سے پانچ لاکھ 90 ہزار ڈالر منتقل کیے گئے، اس رقم سے 28 جولائی 2017ءکو انہوں نے پیرس کے شمال میں دو منزلہ فلیٹ خریدا تھا۔

فرانسیسی حکام کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ پروفیسر طارق رمضان نے اس کے علاوہ دیگر رقم دو تنظیموں کے مقاصد کے لیے استعمال کی تھی۔

پیرس:‌ پروفیسر طارق رمضان کی درخواست ضمانت مسترد

یاد رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں فرانسیسی عدالت نے دو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار پروفیسر طارق رمضان کی رہائی کے لیے دائر کردہ درخواست دوسری مرتبہ بھی مسترد کردی تھی۔

خیال رہے کہ پروفیسر طارق رمضان اخوان المسلمین کے بانی حسن البنا کے نواسے ہیں جن کے خلاف 2016 میں ہینڈا یاری نامی خاتون نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا اس کے علاوہ 2009 میں بھی ایک قسم کی ایک شکایت سامنے آئی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ پروفیسر طارق رمضان حالیہ دنوں فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواح میں واقع جیل میں عصمت ریزی کرنے کے الزامات میں قید ہیں۔

مزید پڑھیں : پروفیسرطارق رمضان کےایک اور خاتون سے تعلقات سامنے آگئے

یاد رہے کہ دو خواتین کے ساتھ عصمت دری اور جنسی ہراسگی کے الزام میں گرفتار مسلمان پروفیسر اور فلاسفر طارق رمضان کے متعلق ایک اور انکشاف ہوا تھا کہ انہوں نے 2015 میں ایک مسلمان خاتون کو اپنے اور ان کے درمیان تعلقات کو راز میں رکھنے کے لیے بھاری رقم کی ادائیگی کی گئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں