The news is by your side.

Advertisement

شہداء تحریک پاکستان اور جناح : میں نے مزار قائد پر کیا دیکھا؟

چودہ اگست پاکستان کے جشن آزادی کے موقع پر خصوصی تحریر

تحریر : اعجاز الامین

تحریک پاکستان میں جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے مسلم لیگی کارکنان کی ارواح قائد اعظم سے ملنے رات گئے مزار قائد پہنچ جاتی ہیں اس موقع پر تحریک پاکستان کے بے لوث کارکنان اور قائد کے درمیان اس وقت کی جدوجہد آزادی اور آج کے پاکستان پر دل گداز گفتگو ہوتی ہے اور ہمیشہ کی طرح قائد اپنے کارکنان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور امید کے چراغ روشن رکھتے ہیں کہ گھوپ
اندھیرا امیدوں کو نگل نہ جائے۔

 یہ منظر میں نے 13 اگست کی رات کو مزار قائد کے مرکزی دروازے کی جھری سے دیکھا کہ سفید کرتے پاجامے میں ملبوس شہداء موجود ہیں۔

یہ سب لوگ قائد اعظم کے گرد نہایت مؤدب انداز میں دو زانو ہوکر بیٹھے تھے، ان کے چہروں پر ایک عجیب سی کیفیت تھی قائد اعظم سے ملاقات کی خوشی اور مسرت اپنی جگہ، لیکن پاکستان کے موجودہ حالات، سیاسی اور سماجی ابتری، افراتفری اور انتشار پر اس خوشی میں افسوس، رنج و غم اور گہرا دکھ بھی شامل ہو گیا تھا۔

میں نے دیکھا کہ لیگی کارکنان آج کے پاکستان کے حوالے سے کافی تذبذب کا شکار دکھائی دیے، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے برصغیر میں انگریزوں اور ہندوؤں کے خلاف اپنی آنے والی نسلوں کے لیے جان و مال کی قربانی دی اور بہت سی مشکلات، مصائب اور آلام دیکھے اور اس جدوجہد کے بعد جس ملک کو حاصل کیا تھا وہ نااہلی، بددیانتی، تعصب، فرقہ واریت کی نذر ہورہا ہے اور ہماری قربانیوں کا مقصد شاید حاصل نہیں ہوسکا ہے۔

میں (راقم الحروف) ابھی اس بات پر حیران اور شش و پنج میں  تھا کہ کارکنان کی گفتگو میری سماعتوں  سے ٹکرائی۔

وہ کہہ رہے تھے کہ برصغیر کے مسلمانوں کو طویل جدوجہد کے بعد آزادی کی نعمت حاصل ہوئی، جس کے لیے ہم نے جان و مال کی قربانیاں دیں، تحریکیں چلائیں، تختہٴ دار پر چڑھے، پھانسی کے پھندے کو جرات و حوصلہ اور کمال بہادری کے ساتھ بخوشی گلے لگایا، قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں تب کہیں جاکر ہم پر قابض غیر ملکی (انگریز) یہاں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔

کارکنان اس بات پر افسردہ تھے کہ آج ہمارا وطنِ عزیز زبوں حالی کا شکار ہے اور شاید یہ وہ پاکستان نہیں جس کا خواب اقبال نے دیکھا اور جس کی تکمیل آپ نے کی۔

قائد اعظم نے اپنے جاں نثار کارکنوں کو مسکرا کر دیکھا اور کہا کہ آپ اس غفور الرحیم  ذات سے مایوس نہ ہوں، جس خدا نے ہمیں اس پاک سر زمین کی نعمت سے مالامال کیا ہے وہی اس کی حفاظت بھی کرے گا۔

قائد اعظم کی بات سن کر کارکنان مطمئن ہوگئے اور نشست برخاست ہوگئی، ان کو  واپس جاتے ہوئے دیکھ کر میں بھی اطمینان کا سانس لے ہی رہا تھا کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک پاکستان کے ان جاں نثاروں اور شہداء کا اس ملک کے لیے فکر اور افسوس  کا اظہار کرنا ٹھیک تھا؟

کیا 1947کے بعد کا پاکستان یا آج کا پاکستان واقعی جناح کا پاکستان ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج ہر پاکستانی کے ذہنوں میں ہے۔ آپ کے ذہن میں کیا ہے ؟ اس کا فیصلہ آپ خود بہتر طور پر کرسکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں