نوٹ: یہ طویل ناول انگریزی سے ماخوذ ہے، تاہم اس میں کردار، مکالموں اور واقعات میں قابل ذکر تبدیلی کی گئی ہے، یہ نہایت سنسنی خیز ، پُر تجسس، اور معلومات سے بھرپور ناول ہے، جو 12 کتابی حصوں پر مشتمل ہے، جسے پہلی بار اے آر وائی نیوز کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

ناول کی گزشتہ تمام اقساط اس لنک کی مدد سے پڑھی جاسکتی ہیں

’’انکل اینگس کہاں ہیں؟‘‘ فیونا نے جمی اور جیزے کو صوفے پر بیٹھے دیکھ کر پوچھا۔ ’’اور ہمیں گئے کتنی دیر ہوئی ہے؟‘‘
جمی انھیں دیکھ کر اٹھا اور بولا: ’’ہیلو، تو تم لوٹ آئے، بس چند ہی منٹ ہوئے تم لوگوں کو۔ اور تمھارے انکل ذرا باہر چلے گئے ہیں کچھ معلومات اکٹھی کرنے۔ تمھارا سفر کیسا رہا، قیمتی پتھر لے آئے؟‘‘
فیونا نے جیب سے موتی نکالا اور جمی کے حوالے کرتے ہوئے کہا: ’’ہم سیچلز پہنچ گئے تھے، بڑا مزا آیا۔‘‘
جمی نے موتی لے کر دیکھا تو اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ ’’کتنا شفاف ہے موتی۔‘‘ وہ کچھ دیر تک قیمتی پتھر کو دیکھتا رہا پھر بولا: ’’تمھارے انکل نے کہا تھا کہ ان کی واپسی تک کچھ نہ کیا جائے، اس لیے جب وہ واپس آئیں گے تو یہ پتھر جادوئی گیند میں رکھا جائے گا، تب تک تم سے سفر کی تفصیلات سنی جائیں۔‘‘
وہ سب انگیٹھی کے پاس کرسیوں پر بیٹھے اور گپ شپ کرنے لگے۔ ایک گھنٹہ بعد اینگس لوٹے۔ بچوں کو دیکھ کر ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔ فیونا بھی انھیں دیکھ کر اپنے سفر اور واپسی اور موتی کے بارے میں بتانے لگی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے یہ قیمتی پتھر گولے میں رکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے؟‘‘
وہ سب جادوئی گولے کے گرد اکٹھے ہو گئے۔ اینگس نے موتی لے کر جادوئی گولے میں بنے ایک سوراخ میں رکھ دیا، پہلی ہی کوشش میں موتی درست سوراخ میں رکھا گیا تھا اس لیے تینوں قیمتی پتھر پہلے کہیں زیادہ روشن ہو گئے۔
’’ایک موتی کے اندر کوئی ڈریگن کیسے منقش کر سکتا ہے؟‘‘ جبران دیوار پر تین ڈریگنز کی شبیہیں جھلملاتے دیکھ کر بولا۔
’’جادوگر حیرت انگیز ہوتے ہیں۔‘‘ جمی نے خواب ناک لہجے میں کہا: ’’وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ایک روز تمھیں زرومنا جادوگر سے ملنے کا موقع ملے گا۔‘‘
تینوں کی حیرت اور جوش سے بھری نگاہیں جمی پر جم گئیں۔ ایسے میں جیزے بول پڑا: ’’اس کا مطلب ہے کہ آرٹر جلد یہاں پہنچ جائے گا!‘‘
’’آرٹر…؟‘‘ جبران چونکا۔ ’’عجیب سا نام ہے، کیا آپ کا مطلب ہے آرتھر؟‘‘ جبران نے سر کھجاتے ہوئے پوچھ لیا۔
’’نہیں، میرا مطلب آرٹر ہی ہے، بہرحال، وہ جیک کے نام سے آئے گا۔‘‘ جیزے نے جواب دیا۔
’’آپ سب کے دو دو نام ہیں، بندہ پریشان ہو جاتا ہے۔‘‘ جبران نے کہا تو جیزے نے مسکرا کر کہا: ’’تو یہی بہتر ہے نا کہ ہمیں جمی، جیزے، جونی اور جیک کہہ کر پکارا جائے۔ ہمارے اصل نام بھول جائیں تو اچھا ہے۔‘‘
’’ہاں یہ ٹھیک ہے۔‘‘ جبران بولا۔ ’’سب کے نام ج سے شروع ہوتے ہیں، یاد رکھنے میں آسانی ہوگی۔‘‘
(جاری ہے)

Comments