The news is by your side.

Advertisement

“موڈ ہو جیسا ویسا منظر ہوتا ہے!”

موسمِ گرما کی شدت اور کرونا کی قید کاٹتے ہوئے ملک کے مختلف شہروں میں بوندا باندی اور بارش کی اطلاع ہم تک پہنچی، اور آج کراچی میں بھی بادل برس ہی گئے۔

کرونا کے خوف کے ساتھ سانس لیتے ہوئے کراچی کے شہریوں کو شدید گرمی اور اس پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے جیسے ادھ موا کر دیا تھا اور ان حالات میں‌ جب بوندیں برسیں تو سب نے شکر ادا کیا۔ ایک شعر دیکھیے۔

موڈ ہو جیسا ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

موسم اور بارش سے متعلق چند مزید اشعار پیش ہیں جو باذوق قارئین کو ضرور پسند آئیں گے۔

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

شہر کی گلیوں میں گہری تیرگی گریاں رہی
رات بادل اس طرح آئے کہ میں تو ڈر گیا

تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں
وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے

برسات کے آتے ہی توبہ نہ رہی باقی
بادل جو نظر آئے بدلی میری نیت بھی

کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں
تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو

برسات کا بادل تو دیوانہ ہے کیا جانے
کس راہ سے بچنا ہے کس چھت کو بھگونا ہے

گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

دوسروں کو بھی مزا سننے میں آئے باصر
اپنے آنسو کی نہیں، کیجیے برسات پہ بات

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں