The news is by your side.

Advertisement

اقوام متحدہ کے اجلاس میں ترک صدر کا دو ٹوک خطاب، مسئلہ کشمیرو فلسطین اجاگرکردیا

نیویارک: ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کی خوشحالی اور استحکام کو مسئلہ کشمیر سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا، اس معاملے کو طاقت کے بجائے بات چیت سے حل کرنا ضروری ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود 80 لاکھ افراد کشمیر میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ  72سال سے مسئلہ کشمیر کا تنازع اپنے حل کا منتظر ہے، اس معاملے کو انصاف، مذاکرات اور برابری کی بنیاد پر حل ہونا بہت ضروری ہے۔ رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ 15 مارچ کو کرائسٹ چرچ کی مسجد پر حملے میں 51 نمازی شہید ہوئے لہذا اس دن کو ہر سال اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی یومِ یکجہتی کے طور پر منایا جائے۔

محمد مرسی کی شہادت کا تذکرہ

ترک صدر نے مصر کے منتخب صدر محمد مرسی کی عدالت میں شہادت اور ان کی فیملی کو تدفین کی اجازت نہ دینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے اہل خانہ کو اجازت نہ دے کر ہمارے دلوں میں کاری ضرب لگائی گئی،

شام کے بچے ایلان کا ذکر

رجب طیب اردوان نے اپنے خطاب کے دوران سمندر میں ڈوب کر مرنے والے شامی بچے ایلان کی تصویر دکھائی اور اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا بہت جلدی ایلان کو بھول گئی، انسانیت کی قسمت مٹھی بھر ممالک کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑی جا سکتی‘‘۔

اسرائیلی اقدامات کی مذمت

ترک صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کا نقشہ دکھاتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل تقریباً سارے ملک پر قبضہ کرنے کے باوجود اسرائیل کا لالچ ابھی تک ختم نہیں ہوا، وہ بقیہ علاقے کو بھی لوٹنا چاہتا ہے، اسرائیل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل پیرا نہیں تو یو این نے کیا کردار ادا کیا؟ یرشیلم میں دارالحکومت منتقل کرنا اقوام عالم کے منہ پر تھپڑ کے مترادف ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’’ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا پانچ طاقتوں سے بڑی ہے، دنیا میں نا انصافی کے سائے تلے ترکی انسانیت کی آواز بن گیا ہے، شامی بچے کا درد، غزہ کے یتیم کا غم، یمن اور صومالیہ میں اولاد کو ایک روٹی فراہم نہ کرنے والے باپ کا دکھ اور کشمیری بھائیوں کو درپیش مشکلات کو ہم محسوس کرتے ہیں، ماضی کی طرح آج بھی ترکی رنگ و نسل کی تفریق کیے بغیر ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔

ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’’اگر ظلم اور انصافی پر سب خاموش بیٹھے رہے تو یاد رکھیں کہ ہم پھر بھی خاموش نہیں بیٹھیں گے، دنیا بھر میں ہونے والے مظالم کی نہ صرف مذمت کی بلکہ مظلوم کا ساتھ دینے کا سلسلہ بھی جاری رکھیں گے، فلسطین ، کشمیر، شام کا ناقابل بیان درد ہے جسے سننا ضروری ہے، ہر طرح کے حالات میں ہم سب کو اُن کا ساتھ دینا ہوگا‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں