The news is by your side.

Advertisement

کیا رمیز راجہ پاکستان کرکٹ کے حقیقی راجہ بن پائیں گے؟

 تحریر: بابر خان

رمیز راجہ جس تیزی سے کام کر رہےہیں لگتا ہے وہ کرکٹ کے حقیقی راجہ بننا چاہتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین کو شائد احساس ہوگیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ہی نہیں اس کا اسٹرکچر بھی بہت پیچھے ہے۔پرانا نظام گل سڑ گیا ہے ۔ اگر اب بھی اسے درست نہیں کیا تو پاکستان دنیائے کرکٹ میں اکیلا رہ جائے گا۔

رمیز راجہ آج کل کراچی کے دورے پر ہیں ۔ پہلے کاروباری برادری کے بڑے بڑے لوگوں سے ملاقات کی۔ پھر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لوگوں سے ملے۔ رمیز راجہ کی پہلی ترجیح پاکستان کرکٹ کو مالی طور پر مضبوط کرنا ہے۔ رمیز راجہ متعدد بار کہہ چکے ہیں پاکستان ٹیم کارکردگی اور مالی اعتبار سےمضبوط ہوگی توکوئی ٹیم پاکستان چھوڑ کر نہیں جائے گی۔

رمیز راجہ نے کاروباری افراد سے ملاقات کرکے انہیں کرکٹ میں پیسہ لگانے پر آمادہ کیا۔ معروف بزنس مین عقیل کریم ڈیڈھی نے نیشنل اسٹیڈیم کے قریب دو سو کمروں کو فائیو اسٹار ہوٹل بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ عقیل کریم ڈیڈھی کہتے ہیں پہلی بار پی سی بی کا کوئی چئیرمین خود چل کر ہمارے پاس آیا ہے اب ہماری ذمہ داری ہے ہم اس کے پاس جائیں گے۔

یہ سو فیصد سچ ہے کہ پاکستان کرکٹ مالی طور پر مضبوط ہوگا تو تمام ممالک اس سے کھیلنا پسند کریں گے۔ آئی سی سی میں بھی پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ پاکستان میں کرکٹ کا ڈھانچہ مضبوط ہوگا تو کھلاڑیوں کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔ رمیز راجہ کو چاہیے کہ تمام ریجن میں ہائی پرفارمنس سینٹر بنائیں۔ یہ بہت پہلا ہوجانا چاہیے تھا لیکن شائد ماضی میں آنے والے چئیرمین اس معاملے کی نزاکت کو نہیں سمجھ سکے۔ یہ اچھی بات ہے کہ رمیز راجہ پاکستان کرکٹ میں پیسہ لانا چاہتے ہیں ۔ اس سے پاکستان کرکٹ مالی طور پر تو مضبوط ہوجائے گی لیکن کارکردگی میں بہتری کے لئے صرف پیسے کا ہونا ضروری نہیں ہے۔

کارکردگی بہتر ہوگی میرٹ پر فیصلے کرنے سے۔پسند نا پسند سے ہٹ کر کھلاڑیوں کو کارکردگی کی بنیاد پر آگے لانے سے۔ کوچز ، کھلاڑیوں ، گراونڈ اسٹاف میںپروفیشنلزم لانے سے۔ صرف کرکٹر کا معیار بہتر کرنے سے کرکٹ میں بہتر ی نہیں آئے گی۔

کرکٹ کے تمام شعبوں میں کام کرنے والے افراد کا معیار بہتر کرنا ہوگا تو ہی کرکٹ میں بہتری آئے گی۔ پاکستان میں پیچز اچھی نہیں ہیں گراونڈ سہولیات بہتر نہیں ہیں۔اسکول اور کالج کرکٹ بلکل ختم ہوگئی ہے۔ کرکٹ میں پیسہ صرف نیشنل ٹیم تک محدود کردیا گیا تو نتائج میں بہتر نہیں آئے گی۔

اس پیسے کو اسکول کرکٹ ، انڈر سکسٹین اور اور انڈر نائنٹین کرکٹ تک منتقل کرنا پڑے گا ۔ جب چھوٹے لیول پر کرکٹرز کو ایکسپوژر ملے گا تو ان کی کرکٹ بھی بہتر ہوگی اور ان کی شخصیت بھی۔ رمیز راجہ کو راجہ بننا ہے تو دل بڑا کرکے کام کرنا ہوگا۔

بابر خان بطور اسپورٹس پروڈیوسر اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں- وہ تیرہ سال سے زائد عرصے سے اسپورٹس رپورٹنگ سے وابستہ ہیں۔ڈریسنگ روم میں ہونے والے تنازعات سے لیکر کھلاڑیوں کی کارکردگی تک ہر خبر پر نظر رکھتے ہیں

Comments

یہ بھی پڑھیں