The news is by your side.

عمران خان کیخلاف راناثنااللہ کی جانب سے ایک بار پھر مذہب کارڈ کا استعمال

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ راناثنا نے ایک بار پھر عمران خان کے خلاف مذہب کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے پنجاب اور کے پی حکومتوں کو دھمکی دے ڈالی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 10سے15لوگ آتے ہیں سڑک پر احتجاج شروع کردیتے ہیں، یہ کہتے ہیں عوام کا سمندر احتجاج کررہا ہے، کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں 100 ڈیڈھ سوسے زائد لوگ ہوں۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ فسادیوں نے احتجاج کے نام پر دونوں اطراف کی سڑکیں بلاک کی ہوئی ہیں، پولیس ان کی حفاظت کررہی ہے تاکہ کوئی انہیں نہ بھگائیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہےکہ آمدورفت کے راستےکھلے رکھیں، آج وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ نے ذمہ داری صوبائی حکومتوں کویاددلائی ہے۔

انھوں نے دھمکی دی کہ صوبائی حکومتیں اپنی آئینی اورقانونی زمہ داری پوری کریں، ورنہ میں یقین دلاتاہوں کہ اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

رانا ثنا اللہ نے چیف جسٹس پشاور اسلام آباد اور لاہورہائی کورٹ سے اپیل کی کہ آپ اس کا نوٹس لیں۔

وفاقی وزیر نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم کہتے تھے یہ فتنہ ہے اس کا ملک دشمن ایجنڈا ہے جو آج پورا ہو رہا ہے، یہ اسلام آباد کی حدود سے دور پنجاب اور کے پی کی حدود میں عوام کوتکلیف دےرہاہے، عوام نے اس فتنہ فساد مارچ کو بری طرح مسترد کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پورےملک میں چندہزارلوگ ہیں جوباہرنکلےہیں، میں ان کے اس عمل کی بھرپورمذمت کرتا ہوں اور صوبائی حکومتوں سے کہتا ہوں شاہراہیں فوری طور پرکھلوائیں۔

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ جن لوگوں کو اس احتجاج کے باعث تکلیف ہے، ان سے حکومت کی جانب سے معذرت خواہ ہوں اور میں عوام کو یقین دلاتاہوں کہ اس صورتحال کو زیادہ دیر چلنے نہیں دیں گے، ہم صوبائی حکومتوں کو ان کے آئینی کردار میں لیکرآئیں گے۔

وزیر داخلہ نے کہا میں ان فسادیوں اور شرپسندوں کو خبردارکرتا ہوں، ہمارے پاس تمام رپورٹس پہنچ رہی ہیں، ہمیں اندیشہ ہےعوام کاری ایکشن ہوگا،پھر یہ نہ ہو پولیس فسادیوں کی حفاظت میں ناکام ہوجائے اورعوام ان سے نمٹیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران نیازی نےسینئرصحافیوں سےجوبات منسوب کی اس کی مذمت کرتا ہوں، صحافی کا کام ہے رپورٹ کرنا۔

عمران خان پر حملے کے حوالے سے رانا ثنااللہ نے کہا کہ وزیرآباد واقع میں نوید ہی ملزم ہے،اس کے علاوہ کوئی دوسرا ملزم نہیں ہے، نوید بھی اسی طرح موٹیویٹ ہو کر آگیا جس طرح احسن اقبال پرحملہ ہوا تھا، ہم نے تحقیقات کی ہیں نوید موٹیویٹ ہو کر آیا تھا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی میرٹ پر تفتیش ہورہی ہے، عمران خان کی کوشش تھی ملک دشمن اور فتنہ فساد پر مبنی ایجنڈے کی پذیرائی کرے۔

انھوں نے کہا کہ فوادچوہدری کہتاہےایف آئی آر تو مدعی کی مرضی کی ہوتی ہے، کل کو کوئی کسی کیخلاف بھی درخواست لیکر آجائے توایس ایچ او آنکھیں بند کرکے مقدمہ درج کرلے گا؟

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ آپ مٹھی بھر فسادیوں کی حفاظت کرتے ہوئے کروڑوں لوگوں کو پریشان کر رہے ہیں، فائل ورک ہورہا ہے ہم چاہتے ہیں فائل مکمل ہوجائے کوئی کاغذ شارٹ نہ ہو، فائل مکمل ہونے کے بعد پھر سب کچھ ہوگا۔

عمران خان پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے انقلاب لانا ہے کہتا ہے میں انقلاب اور عوام کا سمندر لا رہا ہوں ، حالت یہ ہےکہ ایک ایف آئی آراپنی مرضی کی درج نہ کرواسکے، اس سےانہیں اپنی اوقات معلوم ہوجانی چاہئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں جھوٹی ایف آئی آر درج کرانا کوئی مشکل نہیں، میں پنجاب کا لامنسٹر رہا ہوں روزانہ ہزاروں جھوٹی ایف آئی آر ہوتی تھیں۔

پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے رانا ثنااللہ نے کہا کہ یہ احتجاج عوام نہیں کررہے صوبائی حکومتیں کروا رہی ہیں، یہ لوگ خداکی قسم کہیں نظرنہ آئیں، یہ لانگ مارچ نہیں دو صوبے فیڈریشن پر حملہ آور ہور رہے ہیں۔

انھوں نے خبر دار کیا کہ ریاست کے مفاد کیخلاف کوئی بھی کام کرے گا کسی کو معاف نہیں کیاجاسکتا، ایسا نہیں کہ وہ شخص ریاستی اورملکی مفاد کو روند ڈالے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں