The news is by your side.

Advertisement

توہین عدالت کیس: عدالت نے رانا شمیم کو جواب دینے کے لیے 3 ہفتے کا وقت دے دیا

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں رانا شمیم کو جواب دینے کے لیے 3 ہفتوں کا وقت دے دیا ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں رانا شمیم، میر شکیل الرحمان ودیگر کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی ، چیف جسٹس ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید ،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی ، سابق چیف جج جی بی رانا شمیم،انصارعباسی ،عامر غوری عدالت میں پیش ہوئے، رانا شمیم پر فرد جرم عائد کئےجانے کے بعد آج پہلی سماعت تھی۔

چیف جسٹس نے رانا شمیم سے استفسار کیا کہ رانا صاحب آپ نے اپنا بیان حلفی دائر کر دیا ہے؟ رانا شمیم نے بتایا کہ میں نے اپنے وکیل کو جواب دیا ہوا ہے لیکن وہ بیمار ہیں۔

جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ نے ایک بیان حلفی میں الزامات لگائے تو رانا شمیم نے کہا کہ میں نے بیان حلفی میں خود کچھ الزام نہیں لگایا، نہ ہی بیان حلفی کسی کو دیا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آپ نے بیان حلفی لیک ہونے پر کوئی کارروائی نہیں کی، رانا شمیم نے بتایا کہ یہ تو جنہوں نے بیان حلفی شائع کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے بیان حلفی کیسے حاصل کیا؟

رانا شمیم کا کہنا تھا کہ میرے وکیل آئیں گے تو آپ ان سے پوچھ لیجئے گا، انہوں نے ابھی تک جواب کو حتمی شکل نہیں دی، میرے وکیل دو ہفتے کے بیڈ ریسٹ پر ہیں، مجھے 3 ہفتوں کی مہلت دی جائے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پھر آپ اپنا وکیل تبدیل کر لیں تو رانا شمیم نے کہا کہ اگر میرے وکیل دو ہفتے میں ریکور نہیں ہوتے تو میں وکیل تبدیل کر لوں گا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کہ اس کیس میں اب کیسے آگے بڑھیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب وکیل کے دستخط سے انٹراکورٹ اپیل دائر ہو سکتی ہے تو جواب کیوں نہیں؟

جسٹس اطہر من اللہ نے رانا شمیم سے استفسار کیا کہ پاکستان کے دو لینڈنگ اخبارات نے آپ کا بیان حلفی شائع کیا، آپ نے انہیں کوئی نوٹس بھجوایا؟ جس پر رانا شمیم نے کہا کہ نوٹس بھی جاری کیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے رانا شمیم کو جواب جمع کرانے کیلئے 3 ہفتے اور آخری موقع دیتے ہوئے کیس کہ مزید سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں