The news is by your side.

Advertisement

بینگن کا کھیت: رنجیت سنگھ اور خوشامدی وزیر

مہا راجا رنجیت سنگھ کا نام تو سبھی نے سنا ہو گا۔ پنجاب کے اس راجا کے تخت و دربار کے مختلف قصے اور جنگوں وغیرہ کی تفصیل تاریخی کتب میں محفوظ ہیں۔ اسی طرح بعض راویات اور افسانوی باتیں بھی اس تاریخی کردار سے منسوب ہیں جن میں سے اکثر قابلِ توجہ اور بعض دل چسپ و عجیب بھی ہیں۔

رنجیت سنگھ کے دور کا ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ غریب اور مجبور انسان کیسے اپنے سے برتر اور طاقت ور، مگر اپنی ہی طرح کے گوشت پوست کے انسان کے آگے گڑگڑانے اور اس کی ہر بات کی تائید کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ ایک خوشامدی وزیر کا قصہ ہے جو حقیقی ہو یا افسانوی مگر سبق آموز ضرور ہے.

کہتے ہیں ایک دن رنجیت سنگھ کسی دیہی علاقے سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک مقام پر بینگن کا کھیت دیکھا۔ مہا راجا نے ایک بینگن کو دیکھ کر ناک سکوڑی۔ مصاحبوں نے دیکھا کہ مہا راج کی طبیعت میں ناگواری ہے اور وہ رک کر جس کھیت کا جائزہ لے رہے ہیں، شاید اب اس کی خیر نہیں۔ اگر مزاج بگڑا تو کئی ایکڑ پر پھیلے اس کھیت اور اس میں موجود فصل کو آگ لگا دینے کا حکم جاری ہوسکتا ہے۔

مصاحب چپ تھے۔ انھیں انتظار تھا کہ مہا راجا اب کیا حکم دیں گے۔ اسی شش و پنج میں چند لمحے گزرے تھے کہ مہا راجا نے اپنے قریبی وزیر کی طرف دیکھا اور قدرے سخت لہجے میں بولا، ‘‘ یہ کیا واہیات سبزی ہے۔’’ خوشامدی وزیر نے موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اور جیسے ہی مہا راجا کے دل کی بات تک پہنچی، وہ بھی بینگن کی برائی کرنے بیٹھ گیا۔ اس وزیر نے بینگن کی پوری ہجو کہہ ڈالی۔ مہا راجا کا قافلہ آگے بڑھ گیا۔

چند روز بعد مہا راجا رنجیت سنگھ اپنے مصاحبوں اور اس وزیر کے ساتھ دوبارہ اس کھیت کے سامنے سے گزرا۔ کہتے ہیں رنجیت سنگھ وہاں رکا اور ایک بینگن کی طرف دیکھ کر اس سبزی کی تعریف کرنے لگا۔ اس خوشامدی وزیر نے بادشاہ کا یہ موڈ دیکھا تو اس نے بھی بینگن کی تعریف شروع کر دی۔

مہا راجا نے تعجب سے پوچھا: ‘‘چند روز پہلے تو تم بینگن کی برائی کررہے تھے اور آج تعریف…؟ وزیر نے بھی سچ بولنے میں عافیت جانی۔ ہاتھ جوڑ کے کہنے لگا: ‘‘ سچ یہ ہے کہ میں حضور کا نوکر ہوں، اس بینگن کا نہیں، مہاراج کو بینگن پسند ہو گا مجھے بھی ہو گا، آپ اسے ناپسند کریں تو میری کیا مجال کہ اس کی تعریف کروں۔’’

Comments

یہ بھی پڑھیں