The news is by your side.

Advertisement

پروفیشنل جیلسی کی وجہ سے میرے خلاف کارروائی کرائی گئی، راؤ انوار

کراچی : نقیب اللہ قتل کیس میں گرفتار سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا کہنا ہے کہ نہ میں نے نقیب اللہ کو پکڑوایا، نہ مارا سب ریکارڈ موجود ہے، پ پروفیشنل جیلسی کی وجہ سے مجھ پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ قتل کیس کی انسداد دہشتگردی عدالت میں سماعت ہوئی ، گرفتار سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو دس دیگر ملزمان کے ساتھ انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے مقتول کے وکلا کو دلائل کیلئے آخری مہلت دے دی اور کہا کہ آئندہ سماعت پر مقتول کے وکلا حاظر نہیں ہوئے تو ضمانت پر قانون کے مطابق فیصلہ کر دیں گے۔

راؤ انوار آئی جی تبدیل ہوتے ہی اپنی پولیس پر پھٹ پڑے اور کہا کہ پولیس نے ذاتی گروپنگ کی وجہ سے مجھ پر قتل کا مقدمہ درج کیا، میرے خلاف نقیب اللہ قتل کیس میں بھی شواہد موجود نہیں ہیں۔

سابق ایس ایس پی ملیر کا کہنا تھا کہ پروفیشنل جیلسی کی وجہ سے میرے خلاف کارروائی کرائی گئی، جے آئی ٹی میں میرا فون نمبر بھی غلط ڈالا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مجھ پر دو خود کش حملے ہو چکے ہیں، میرے گھر کو سب جیل قرار دینا فیور نہیں، ایک شخص نے میرے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی، جسے بعد میں گرفتار کیا گیا، مجھے ہر تنظیم کے دہشتگرد نے دھمکی دی ہے۔

راؤ انوار کا کہنا تھا کہ مجھے غلط مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے ، نہ میں نے نقیب اللہ کو پکڑوایا، نہ مارا، ریکارڈ موجود ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں