The news is by your side.

Advertisement

راولپنڈی رنگ روڈ کیس میں اہم پیشرفت، بڑی گرفتاری

راولپنڈی: راولپنڈی رنگ روڈ کیس میں اینٹی کرپشن نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے سابق کمشنرراولپنڈی کو حراست میں لے لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق رنگ روڈ کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، آج اینٹی کرپشن ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن(ر)محمد محمود کو گرفتار کرلیا ہے۔

سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد محمود راولپنڈی رنگ روڈ کیس کی تحقیقات کرنے والی انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش بھی ہوئے تھے جہاں ان سے پوچھ گچھ کی گئی تھی، انکوائری ٹیم میں قانونی، تکنیکی اور معاشی ماہرین پر شامل ہیں۔

بعد ازاں اینٹی کرپشن نےچیئرمین لینڈ ایکوزیشن وسیم تابش کو بھی گرفتارکرلیا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان پہلے ہی راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ اسکینڈل کی مکمل تحقیقات کا حکم دے چکے ہیں۔

یاد رہے راولپنڈی رنگ روڈ انکوائری میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا تھا، انکوائری میں بتایا گیا کہ سابق کمشنر محمد محمود نے رنگ روڈ کی سمت میں غیر قانونی تبدیلی کرائی اور کنسلٹنٹس کی ملی بھگت کے ساتھ رنگ روڈ کی سمت تبدیلی کے لیے غیر قانونی طور پر بولیوں کا اشتہار دیا ، محمد محمود، سابق ایل اے سی وسیم تابش، سابق افسر عبداللہ بے قاعدگیوں میں ملوث پائے گئے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ تینوں مجاز افسران نے اختیارات سے تجاوز کیا اور فنڈز میں خوردبرد کی، رنگ روڈ میں بے قاعدگیوں کا مقصد رینٹل سنڈیکیٹ کو فائدہ پہنچانا تھا، تینوں افسران نے رینٹل کا اپنا سنڈیکیٹ بھی بنا رکھا تھا، ملزمان نے رنگ روڈ منصوبے کی آڑ میں رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کرایا جبکہ ملزمان کے ساتھ موجودہ اور سابق سرکاری افسران بھی ملوث نکلے۔

یہ بھی پڑھیں: رنگ روڈ‌ تحقیقات، زلفی بخاری نے عہدہ چھوڑ‌ دیا، جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ

ذرائع کے مطابق کہ تینوں افسران کے خلاف کارروائی کے لیے کیس قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیج دیا گیا ہے، نیب منصوبے میں 2 ارب 30 کروڑ کے گھپلوں کی انکوائری کرے گا۔

وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی اور ترقی برائے انسانی وسائل زلفی بخاری نے رنگ روڈ اسکینڈل میں‌ نام آنے پر سرکاری عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔

زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ’رنگ روڈ اسکینڈل کی تحقیقات مکمل ہونےتک ازخود عہدے سے علیحدہ ہو رہا ہوں‘۔ انہوں نے معاملےکی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

زلفی بخاری نے تحقیقات میں تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ میں ہر قسم کی تحقیقات کےلیے تیار ہوں اور پاکستان میں ہی رہوں گے، وزیراعظم عمران خان کے نظریے اور وژن کے ساتھ آئندہ بھی کھڑا رہوں گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں