site
stats
خواتین

ہندوستان کی عظیم تخت نشین خاتون ۔ رضیہ سلطان

عورت کو یوں تو کم عقل کہا جاتا ہے۔ اس کا جائیداد میں حصہ بھی کم ہے، اس کی گواہی بھی آدھی ہے، جبکہ اسے کمزور بنا کر مرد کو اس کا محافظ بنایا گیا ہے۔ لیکن اس حقیقت کا کیا کیجیئے کہ یہی محافظ مرد اسی کم عقل عورت کے ہاتھوں مات کھا کر کبھی تخت و تاج کو ٹھوکر مار دیتا ہے، کبھی اپنے ہوش و حواس گنوا بیٹھتا ہے۔

انگلستان کے بادشاہ ایڈورڈ ہشتم نے اپنے عشق کو حاصل کرنے کے لیے تاج و تخت کو ٹھکرا دیا۔ انگلستان کا ہی ہنری اپنی پسند کی شادی کرنے لگا تو پوپ اور سلطنت میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے۔ بہادر رومی جرنیل جولیس سیزر مصر کی شہزادی قلو پطرہ کی زلف کا اسیر ہوا اور روم کی ساری دولت اس کے قدموں میں ڈھیر کردی۔ کہا جاتا تھا کہ سیزر کے فیصلوں کے پیچھے قلوپطرہ کی عقل کار فرما تھی۔ روس کی ملکہ کیتھرائن نے ترکی کے عظیم عثمانی حکمرانوں کو شکست دے ان سے تاریخی معاہدہ کوچک طے کیا۔

روس کی ملکہ کیتھرائن

ذرا آگے چل کر ہندوستان کی تاریخ کا جائزہ لیں تو مغلوں میں اکبر کے ہوش سنبھالنے سے قبل عنان حکومت اس کی ماں حمیدہ بانو بیگم کے ہاتھ میں رہی۔ یہ دور زنانی حکومت کا دور کہلایا۔ ملکہ نور جہاں سے کون نہ واقف ہوگا۔ حسین اور ذہین نورجہاں جہانگیر کواپنے اشاروں پرنچایا کرتی اورسلطنت مغلیہ ان دنوں عملاً نور جہاں کے احکامات سے چلا کرتی۔ اس سے قبل جہانگیر اپنے عہد ولی عہدی میں انار کلی نامی ایک مغنیہ کی زلفوں کے اسیر ہوکر مغل اعظم جلال الدین اکبر سے دو بدو جنگ بھی کرچکے تھے۔

نور جہاں اور جہانگیر ۔ ایک مصور کی نظر سے

کتنی ہی خواتین ایسی ہیں جنہوں نے اپنی عقل و ہمت سے تاریخ میں اپنا نام امر کرلیا۔ رضیہ سلطان بھی ایسی ہی ایک حکمران تھی۔

رضیہ کو ’رضیہ سلطانہ‘ پکارا جانا سخت ناپسند تھا۔ وہ کہا کرتی تھی کہ ’سلطانہ‘ کا مطلب سلطان کی بیوی ہے۔ میں کسی سلطان کی بیوی نہیں بلکہ خود سلطان ہوں لہٰذا مجھے رضیہ ’سلطان‘ کہا جائے۔

صد حیف کہ ایسی جاہ و حشم والی سلطان آج پرانی دلی میں ایک بے نام قبر میں دفن ہے اور اسکے برابر موجود قبر کا کوئی نام ونشان بھی نہیں۔

اے آروائی نیوزکے پروگرام ’ادراک‘ کے میزبان فواد خان جب وہاں گئے تو انہیں اداسی، تنہائی اور خاموشی کے سوا وہاں کچھ نہ ملا۔

rs-1

انہوں نے سائیکل رکشے پر پرانی دلی کی گلیوں کا دورہ کیا۔ آئیے ہم بھی ان کے ہمراہ ماضی کے جھروکوں میں چلتے ہیں۔

دلی سے دہلی تک

بھارت کا دارالحکومت دہلی شاید دنیا کی تاریخ کا واحد شہر ہے جو 17 بار اجڑنے کے بعد بھی ہر بار دوبارہ بس گیا۔ غالب و میر جیسے شاعروں کی رہائش کا اعزاز رکھنے والا دلی حضرت عیسیٰ کے دور سے بھی 6 صدی قبل بسایا جا چکا تھا۔

مغل شہنشاہ جہانگیر نے اس کی تعمیر نو کی جس کے بعد اس کا نام شاہجہاں آباد پڑگیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا پرانا نام تو لوٹ آیا لیکن جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس شہر میں جو اضافہ کیا گیا اس نے دلی کو دو حصوں میں تقسیم کردیا، نئی دہلی اور پرانی دہلی۔

od-2

دلی کا سفر کرنے والے اکثر افراد اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ دلی اور لاہور کی کئی عمارتوں کا طرز تعمیر ایک جیسا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عمارتیں مغل بادشاہ شاہجہاں نے تعمیر کروائی تھیں جو تاریخ میں اپنی تعمیرات ہی کے حوالے سے مشہور ہے۔ محبت کی عظیم نشانی اور طرز تعمیر کا شاہکار تاج محل بھی شاہجہاں کا تعمیر کردہ ہے جو اس نے اپنی محبوب بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا تھا۔

آئیے اب پرانی دلی چلتے ہیں۔ گو کہ ہمیں کسی سواری کی ضرورت نہیں مگر فواد خان کو نئی دلی جانے کے لیے سائیکل رکشہ پر سفر کرنا پڑا۔

پرانی دلی میں داخل ہونے کے لیے کئی دروازے ہیں جن میں سے ایک راستہ ترکمان گیٹ کہلاتا ہے۔ ایسے ہی جیسے اندرون لاہور میں داخلے کے کئی دروازے ہیں۔

gate-2

کراچی کا کھارادر ہو، پرانا لاہور ہو یا پرانی دلی، آپ کو ایک سا منظر دکھائی دے گا۔ احاطوں سے باہر نکلی دکانیں، تنگ گلیاں، پتھارے دار، پرانی عمارتیں، جو سر پر گرتی محسوس ہوتی ہیں۔ پرانی دلی میں الگ چیز ہتھ گاڑی میں سامان کھینچتے مزدور بھی نظر آئیں گے۔

od-1

آپ کو بالی وڈ کی فلم دلی 6 یاد ہوگی جس میں سونم کپور اور ابھیشک بچن نے کام کیا تھا۔ دلی 6 دراصل دلی کا پوسٹل کوڈ ہے۔

مرزا غالب کی حویلی بھی یہیں پرانی دلی میں ہے۔ محلہ بلی ماراں کی گلی قاسم جان میں غالب کی حویلی موجود ہے۔ گو حویلی تو زمانے کی دست برد کے باعث اپنی شان کھو چکی ہے لیکن اس کے دو کمرے بھارتی حکومت کی مہربانی سے اچھی حالت میں ہیں اور دنیا بھر سے غالب اور اس کی شاعری کے دیوانے یہاں آکر غالب کو تلاشتے ہیں۔

غالب کی حویلی تو پرانی دلی کے باسیوں کے لیے ایک جانا پہچانا مقام ہے، لیکن وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ اپنے وقت کی حکمران رضیہ سلطان کس مقام پر آسودہ خاک ہے۔ کئی لوگوں سے پوچھنے پر بمشکل کوئی ایک شخص آپ کو صحیح سمت بتا سکے گا۔ لیکن رضیہ سلطان کے مقبرے میں فاتحہ پڑھنے سے پہلے ایک نظر اس کے عروج پر بھی ڈالتے ہیں۔

ہندوستان کی عظیم تخت نشین عورت ۔ رضیہ سلطان

دہلی کا پہلا مسلمان بادشاہ سلطان الدین ایبک کا ایک غلام التمش جو اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے صوبہ بہار کا صوبیدار تھا اور بعد ازاں تخت دہلی پر بیٹھا، بلند حوصلہ رضیہ سلطان کا باپ تھا۔ التمش کے ماضی کی وجہ سے یہ خاندان، خاندان غلاماں کہلایا۔ التمش نے بچپن ہی سے اپنی بیٹی میں چھپی صلاحیتوں کو پہچان لیا اور عام شہزادیوں کی طرح تعلیم حاصل کرنے کے بجائے اسے جنگی تربیت اور انتظام سلطنت کی تربیت دی۔ جب اس کی اولادیں بڑی ہوگئیں اور جانشینی کا مسئلہ اٹھا تو التمش نے اپنی بیٹی کو جانشین مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہ فیصلہ اس نے اپنے بیٹوں کی نا اہلی کی وجہ سے کیا۔ اس کے اس فیصلہ کی اس کے امرا نے بھی مخالفت کی۔ التمش کی موت کے بعد اس کے ایک بیٹے رکن الدین فیروز نے رضیہ کو نظر بند کر کے خود تخت سنبھال لیا اور جلد ہی اپنے جلد باز فیصلوں اور ناقص حکمت عملیوں کے باعث امرا کی حمایت کھو بیٹھا۔ تب امرا کو بھی التمش کے دور رس فیصلہ کی اہمیت کا اندازہ ہوا اور جب رضیہ اپنے تخت کو واپس حاصل کرنے کے لیے نکلی تو دربار کے امرا، فوج اور عام عوام نے بھی اس کا ساتھ دیا۔

رضیہ مردانہ لباس پہن کر تخت پر بیٹھا کرتی۔ یہی نہیں بلکہ وہ بذات خود جنگوں میں شریک ہوکر مردانہ وار لڑتی تھی جس کو دیکھ کر اس کی فوج کے حوصلے بھی بلند ہوجاتے تھے۔ اپنے دور حکومت میں اس نے بے شمار دانشمندانہ فیصلے کیے، عوامی بہبود کے کئی منصوبے شروع کیے اور درباری سازشوں کا ایسی ذہانت سے مقابلہ کیا کہ وہ عوام کی پسندیدہ حکمران بن گئی۔

اس نے بھٹنڈہ کے حکمران ملک اختیار التونیہ سے شادی کی۔ اس کی شادی کے بارے میں مؤرخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض مؤرخین کے مطابق اس نے اپنے بھائیوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اس سے شادی کی۔ بعض کے مطابق وہ التونیہ کی بغاوت کچلنے نکلی لیکن اس کی فوج نے اس سے غداری کی۔ رضیہ کو شکست ہوئی اور اسے قیدی کی حیثیت سے التونیہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ التونیہ پہلے ہی اس کے تیر نظر کا گھائل تھا۔ اس نے رضیہ سے شادی کرلی۔

شادی کے بعد رضیہ نے اپنا کھویا ہوا تخت دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لیے وہ اور التونیہ بھٹندہ کی فوج لے کر دہلی کی طرف چلے۔ اس عرصے میں رضیہ کا بھائی معز الدین تخت پر بیٹھ چکا تھا۔ اس جنگ میں رضیہ کو شکست ہوئی۔

اس کی موت کے بارے میں بھی متضاد معلومات ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ معز الدین نے شکست کے بعد ان دونوں کو قتل کروادیا، بعض کے مطابق اس جنگ میں التونیہ مارا گیا لیکن رضیہ جان بچا کر بھاگ نکلی اور ایک ویرانے میں ایک ڈاکو کے ہاتھوں جان گنوا بیٹھی۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دونوں کے ساتھ پیش آیا اور شکست کے بعد دونوں جائے پناہ کی تلاش میں بھٹکتے پھر رہے تھے کہ ایک دیہاتی لٹیرے نے انہیں لوٹنے کے بعد قتل کردیا۔

وجہ موت جو بھی ہو، بہرحال یہ موت ایک عظیم حکمران کے شایان شان نہ تھی۔

رضیہ کی زندگی کا ایک کردار اس کا حبشی غلام یاقوت بھی تھا۔ وہ التمش کے زمانے سے رضیہ کی حفاظت پر معمور تھا۔ کہا جاتا ہے کہ رضیہ اس کے عشق میں مبتلا تھی۔ سلطان بننے کے بعد اس نے اسے ایک اونچا عہدہ دے کر دربار کے کئی امرا سے بلند کردیا تھا جسے سخت ناپسند کیا گیا۔ درباری سازشیوں نے اس غلام کے حوالے سے رضیہ کی کردار کشی بھی کی۔ یہ غلام ملک التونیہ کے خلاف بغاوت میں مارا گیا۔

مؤرخین کے مطابق رضیہ کے زوال کی وجہ اس غلام پر حد سے بڑھی ہوئی عنایتیں تھیں جنہوں نے امرا کو اس سے بدظن کردیا اور عوام میں بھی رضیہ کی ساکھ خراب کردی۔

رضیہ سلطان کی قبر پرانی دلی میں موجود ہے۔ اس کی قبر کے برابر میں ایک اور قبر موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس کی سوتیلی بہن کی ہے۔ ایک ٹوٹے پھوٹے مکان میں بے نام قبر میں وہ عورت دفن ہے جس کا نام سن کر کبھی باغی بغاوت سے باز آجاتے تھے۔

اس کے مقبرے کے احاطے میں ایک چھوٹی سی مسجد بھی ہے جو ویران ہی رہتی ہے۔

یہاں کا سناٹا، ویرانی، اداسی اور وحشت دیکھنے والوں کے لیے سبق ہے کہ اقتدار کسی کا نہیں رہتا، موت ہر شخص کو آئے گی، اور کوئی چاہے کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو، وقت کی دھول میں مٹ جائے گا۔


Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top