The news is by your side.

Advertisement

رحمان ملک نے فیٹف صدر کو دوبارہ خط لکھ دیا

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ ملک کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے فیٹف کو دوبارہ خط لکھا ہے، پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے فیصلے کے لیے غیر جانب دارانہ جائزے کی ضرورت ہے۔

آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ فیٹف کے حوالے سے پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر لابنگ کی گئی، جس کی وجہ سے فیٹف تاحال پاکستان سے ڈو مور کا تقاضا کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے فیصلے کے لیے غیر جانب دارانہ جائزے کی ضرورت ہے، پاکستان کو بغیر ثبوت منی لانڈرنگ کے لیے مورد الزام ٹھہرایا گیا، آج ایک بار پھر صدر ایف اے ٹی ایف کو خط لکھا ہے کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جائے۔

سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا فیٹف کو پاکستان کے خلاف امریکی شکایت نامناسب تھی، پاکستان نے امریکا کی خاطر دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی، جس میں پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، امریکا کو چاہیے کہ اب پاکستان کے خلاف ایف اے ٹی ایف میں درج کردہ اپنی شکایت واپس لے۔

انھوں نے کہا ڈس انفو لیب نے واضح کیا کہ بھارت نے جعلی، بے بنیاد اور زہریلی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو بدنام کیا، ڈس انفولیب کی انکشافات کے بعد ایف اے ٹی ایف پاکستان کے خلاف کارروائی برخاست کرے، اب گرے لسٹ میں نام رکھنے کا کوئی جواز نہیں، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہونے کی وجہ سے پاکستانیوں کی زندگیوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے، اور ہماری معیشت مستقل خطرے میں پڑی ہوئی ہے۔

رحمان ملک نے پریس کانفرنس میں کہا دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت نے اٹھایا، بھارت اور داعش خطے اور چین کے خلاف کام کر رہے ہیں، عالمی رپورٹس کے مطابق داعش کو بھارت معاونت فراہم کر رہا ہے، داعش کے ذریعے پاکستان میں بھی دہشت گردی کرائی جا رہی ہے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے مزید کہا کہ بھارت کے خلاف ٹھوس ثبوت کے باوجود ایف اے ٹی ایف کوئی ایکشن نہیں لے رہا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں