The news is by your side.

بلوچستان اسمبلی نے ریکوڈک کے مبینہ معاہدے کے خلاف قرارداد منظور کر لی

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے ریکوڈک کے مبینہ معاہدے کے خلاف قرارداد منظور کر لی۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی نے ریکوڈک کے مبینہ معاہدے کے خلاف ایک قرارداد منظور کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاق ریکوڈک سے متعلق معاہدہ نہیں کر سکتا۔

قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ریکوڈک معاہدے سے متعلق اراکین بلوچستان اسمبلی کو اِن کیمرہ بریفنگ دی جائے۔

اجلاس میں قرارداد پیش ہوئی تو جمہوری وطن پارٹی کے ایم پی اے نواب زادہ گہرام بگٹی نے ریکوڈک سے متعلق مبینہ معاہدے کے خلاف قرارداد کی حمایت کی۔

بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر نے کہا کہ سینڈک ذخائر ختم ہونے جا رہے ہیں، لیکن بلوچستان کی غربت کم نہ ہوئی، اب ریکوڈک ذخائر کو بھی اسی طرح لوٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز انھوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ریکوڈک کے مالک بلوچستان کے لوگ ہیں، پہلے بھی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ریکوڈک بیچ کر ملک کا قرضہ ادا کریں گے۔

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال بھی اسمبلی اجلاس میں شریک ہوئے، اجلاس 3 نومبر جمعہ کی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

جام کمال نے کہا کہ ریکوڈک پر وفاق کی جانب سے کیسا معاہدہ ہو رہا ہے مجھے اس کا علم نہیں، آج قرارداد اپوزیشن نے پیش تو کی مگر سمجھ نہیں آیا کہ یہ کس کی ہے۔

انھوں نے کہا نئی حکومت کا کابینہ اجلاس اب تک نہ ہونا تشویش کا باعث ہے، کابینہ اور ترقیاتی بجٹ پر اجلاس نہ ہونا ڈیڈلاک کی طرف جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کریں اور اتحادیوں کو ساتھ لے جائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں