The news is by your side.

معروف اسلامی اسکالر مفتی مینک پاکستانی چائے کے دلدادہ ہوگئے

پاکستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے پر آئے ہوئے معروف اسلامی اسکالر مفتی مینک پاکستانی چائے کے دلدادہ ہوگئے۔

زمبابوے سے تعلق رکھنے والے معروف اسلامی اسکالر مفتی مینک نے گزشتہ دنوں پاکستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، اس موقع پر انہوں نے دوران سفر ایک ڈھابے پر چائے نوش کی جو انہیں اتنی من بھائی کہ انہوں نے اسے دنیا کی نمبر ون چائے قرار دے دیا۔

مفتی مینک نے گزشتہ دنوں سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران ایک سفر کے موقع پر راستے میں اسٹاپ کیا اور ڈھابے سے چائے پی جس کا خوشگوار ذائقہ اور یادیں انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔

انہوں نے گزشتہ روز سوشل میڈیا سائٹ انسٹا گرام پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں وہ سڑک کنارے ایک ہوٹل پر چائے پیتے نظر آتے ہیں، اس موقع پر انہوں نے پاکستانی چائے کو نہ صرف دنیا کی نمبر ون چائے قرار دیا بلکہ اس کو اپن زندگی کا حیرت انگیز تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ہائی وے پر سفر کے دوران اس خوبصورت جگہ پر رکے ہیں، یہ حیرت انگیز تجربہ ہے، خوبصورت ثقافت، حیرت انگیز لوگ اور یہ چائے ماشااللہ نمبر ون ہے۔

 

انسٹا گرام پر اسی حوالے سے اپ لوڈ کی گئی ایک اور ویڈیو میں مفتی مینک چہرے پر ماسک پہنے نظر آتے ہیں اور اس ویڈیو کو انہوں نے ’’پاکستان میں خفیہ؟‘‘ کے عنوان سے شیئر کیا ہے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسک نے انہیں عوام میں پہچانے بغیر ڈھابے پر بیٹھ کر چائے پینے کے تجربے سے لطف اندوز ہونے میں مدد دی۔

 

مفتی مینک نے صرف چائے کے حوالے سے ہی پوسٹ شیئر نہیں کی ہیں بلکہ ان کا انسٹاگرام گرڈ ان کے دورہ پاکستان کے سفر کی ویڈیوز اور تصاویر سے بھرا پڑا ہے، انہوں نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کی سنگینی سے دنیا کو آگاہ کرتے ہوئے اسے ناقابل یقین قرار دیا ہے۔

 

انہوں نے لکھا ہے کہ تباہی بہت زیادہ ہے، سیلاب متاثرین کی ہمیں صرف ابھی نہیں بلکہ اگلے چند سالوں تک مدد کرنا ہوگی، انہوں نے دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ براہ کرم متاثرہ افراد کی مدد کے لیے کسی بھی قابل اعتماد خیراتی ادارے یا پارٹنر کے ساتھ جو کچھ بھی ہو سکے کریں۔

مفتی مینک جن کے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر لاکھوں فالورز ہیں نے کہا کہ انہوں نے سندھ کے کچھ حصوں کا صرف اس ارادے کے ساتھ دورہ کیا کہ متاثرین میں کچھ امداد پہنچا کر ان لاکھوں لوگوں کی حالت زار کے بارے میں مزید آگاہی پیدا کریں۔

اسلامی اسکالر نے اس موقع پر پاکستان میں اپنے پیروکاروں سے اظہار محبت کے ساتھ معذرت بھی کی کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں کے علاوہ کہیں اور نہ جاسکے اس لیے غیر متعلقہ ملاقاتوں، دوروں یا دعوتوں میں شرکت نہیں کرسکا لیکن میں آپ سب سے بہت محبت کرتا ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں