The news is by your side.

Advertisement

ہم ایک دوسرے سے کیسے مختلف ہیں؟

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ایک جیسے قد کاٹھ، جسمانی طاقت اور وزن کے حامل دو افراد یکسر مختلف ماحول اور مقام کی تبدیلی کے بعد‌ اکثر وہ کام یا سرگرمی انجام نہیں‌ دے پاتے جس کی ان سے توقع کی جاسکتی ہے۔

مثال کے طور پر ایک میدانی علاقے کے باشندے کو اگر کسی پہاڑی مقام پر بھیج دیا جائے اور اسے روز کام کاج کی غرض سے بلندی پر بنے اپنے مکان سے نیچے اترنا اور واپسی پر دوبارہ چڑھنا پڑے تو وہ زیادہ عرصہ یہ نہیں‌ کرسکے گا۔

اسی طرح کسی ٹھنڈے مقام پر رہنے والے کو ایسے علاقے میں‌ رہنا پڑے جہاں‌ شدید گرمی پڑتی ہو تو اسے نہ صرف مشکل پیش آئے گی بلکہ وہ مختلف بیماریوں اور جسمانی تکالیف میں‌ مبتلا ہوسکتا ہے۔

اس کی عام وجہ تو جسم اور ماحول میں مطابقت اور مخصوص فضا اور حالات کے مطابق جسم کا ردعمل ہوسکتا ہے جس میں انسان کی صحّت اور کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے، لیکن بعض‌ صورتوں میں یہ جینیاتی تغیر و تبدل کا نتیجہ ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق زیادہ تر انسان ایسے ہیں جن کا جسم سردی یا ٹھنڈے علاقوں میں رہنے کا عادی نہیں اور اس کے مقابلے میں وہ گرم موسم میں بہتر محسوس کرتے ہیں۔ ان کے جسم اپنے اپنے ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں۔

قطبِ شمالی(آرکٹک) کے باسی “انوئٹ” یا شمالی روس کے رہنے والے “نینٹ” انسانوں کے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جو منجمد کردینے والے درجۂ حرارت سے مطابقت پیدا ہوجانے کی وجہ سے وہاں سرگرمیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اس ماحول کے عادی ہوچکے ہیں۔

سائنس بتاتی ہے کہ ان کے جسم ٹھنڈک میں عام لوگوں سے مختلف ردّعمل ظاہر کرتے ہیں کیوں کہ وہ حیاتیاتی طور پر‌ بھی ان سے مختلف ہیں۔

سائنسی تحقیق کے مطابق عام لوگوں کی نسبت ان کی جلد زیادہ گرم ہوتی ہے اور یہی نہیں‌ بلکہ ان کی میٹابولک شرح بھی زیادہ ہے۔ محققین کے مطابق ان باشندوں کے پسینے کے کم گلینڈز ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے سردی میں ان کا جسم عام لوگوں‌ طرح کانپتا نہیں۔

وہ سردی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسے ان کی خصوصیت کہا جاسکتا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ خالصتاً جینیاتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق عام علاقوں کے باشندے قطب شمالی پر کئی دن اور طویل مدت تک قیام کرنے کے باوجود ٹھنڈک اور سردی کو برداشت کرنے میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

کسی بلند مقام پر روزانہ آمدورفت یا رہائش اختیار کرنا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں۔ آپ کا کسی ایسے مقام پر جانا ہوا ہو تو شاید زیادہ بلندی کی وجہ سے طبعیت بھی خراب ہوئی ہو اور سوچا ہو کہ آپ کو فوری یہاں سے لوٹ جانا چاہیے۔

اینڈیز اور ہمالیہ کے بلند بالا مقامات پر رہنے والے اس لحاظ سے عام انسانوں سے مختلف ہیں۔

جیسے جیسے ہم بلندی کی طرف بڑھتے ہیں تو فضا میں آکسیجن کی مقدار کم سے کم ہوتی جاتی ہے اور عام لوگ چکر، سّر درد محسوس کرتے ہیں۔ ان کا بلڈ پریشر کم ہونے لگتا ہے اور سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔لیکن پہاڑی سلسلے کے باسیوں پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایسے مقامات کے رہائشی خاص صلاحیت کے حامل اور جینیاتی طور پر بلندی پر رہنے کے قابل ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان کے پھیپھڑوں کی گنجائش بھی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ جاتی ہے اور وہ بلندی کی طرف جاتے ہوئے زیادہ بہتر طریقے سانس لے سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں