The news is by your side.

Advertisement

فون کی نیلی روشنی کا اثر دماغ تک پہنچانے والے خلیات دریافت

کیلی فورنیا: سائنس دانوں نے ایک طبی مطالعے میں آنکھوں میں ایسے خلیات کو شناخت کیا ہے جو ارگرد کی روشنی کا تعین کرتے ہوئے جسمانی گھڑی کے نظام کو ری سیٹ کرنے کا کام کرتے ہیں، جب یہ خلیات رات گئے مصنوعی روشنی کی زد میں آتے ہیں تو ہماری اندرونی گھڑی الجھن کا شکار ہو جاتی ہے، جس کا نتیجہ مختلف طبی مسائل کی شکل میں نکل سکتا ہے۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے Salk انسٹی ٹیوٹ فار بائیولوجیکل اسٹیڈیز کی اس تحقیق میں جن خلیات کا تعین کیا گیا ہے، انھیں نیلی روشنی کے حوالے سے سب سے زیادہ حساس بتایا گیا ہے، جس کا اثر دماغ تک پہنچتا ہے تو جسم کی حیاتیاتی گھڑی متاثر ہوتی ہے اور بے خوابی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، یہ روشنی عام ایل ای ڈی لائٹس اور دیگر ڈیوائسز جیسے اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ میں استعمال ہوتی ہے۔

یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ رات کو تیز روشنی (اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ وغیرہ سے خارج ہونے والی روشنی) سے جسم کی حیاتیاتی گھڑی متاثر ہوتی ہے اور بے خوابی کا خطرہ بڑھتا ہے، یہ جسمانی گھڑی صحت کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے اور دن رات کا سائیکل متاثر ہونے سے مختلف امراض جیسا کہ کینسر، امراض قلب، موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو سمیت دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔

رات کو موبائل فون کے استعمال سے پڑنے والے دباؤ سے تناؤ کا باعث بننے والے ہارمون کورٹیسول کا اخراج دماغ میں بڑھ جاتا ہے، جس سے دماغ میں برقی سرگرمی بڑھ جاتی ہے اور وہ جلد پر سکون نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ ماضی میں یہ مشورہ سامنے آتا رہا ہے کہ سونے سے ایک یا 2 گھنٹے پہلے اسکرین کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نابینا افراد میں بھی ان کی حیاتیاتی گھڑی دن رات کے سائیکل سے آگاہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے نابینا بھی روشنی کا احساس کر لیتے ہیں، تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ آئی پی آر جی سی ایس نامی یہ خلیات روشنی کے سگنل دماغ کو بھیجتے ہیں اور نابینا افراد بھی ان کی مدد سے دن یا رات کا تعین کر لیتے ہیں۔

اس تحقیق کے بعد محققین کا کہنا ہے کہ ٹی وی، کمپیوٹر مانیٹر اور اسمارٹ فون اسکرین کو ایسے ڈیزائن کیا جا سکتا ہے جس سے نیلی روشنی کے دماغ پر اثر انداز ہونے کو روکا جا سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں