The news is by your side.

Advertisement

فرانس کے انقلاب کا یادگار دن

آج فرانسیسی عوام اپنا قومی دن منا رہے ہیں، اس دن کو تاریخ میں یوم ِ باستیل کے نام سے جانا جاتا ہے ، ہر سال 14 جولائی کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کے پیچھے فرانسیسی عوام کی جدو جہد کی بے مثال داستان ہے۔

برطانیہ سے امریکہ کی جنگ آزادی میں فرانس نے کھل کرامریکہ کی مدد کی جس کے نتیجے میں بالاخر 1776ء میں امریکہ آزاد ہوگیا لیکن یہی بے جا حمایت فرانس میں بھی تبدیلی کا پیش خیمہ بنی- فرانس کی اشرافیہ اور کلیسا نے آپس میں گٹھ جوڑ کررکھا تھا اور تمام زمینوں پر قابض تھے- خود ٹیکس نہیں دیتے تھے پرآئے روز عوام پرنیا ٹیکس لگا دیتے اور قانون کا یہ حال تھا کہ ’پروانہ گرفتاری‘ پر شخص کا نام ‘ مدت اور قید خانہ لکھ کر پولیس کے حوالے کر دیا جاتا – لوگوں کوبغیر وجہ بتائے گرفتار کرکے قید کر لیا جاتا۔

جنگِ آزادی میں امریکہ کی مدد کرنے کے سبب فرانس کا خزانہ خالی ہو چکا تھا مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی غریب غریب تر اور اشراف امیر ترین ہوتے جا رہے تھے لہذا فیصلہ کیا گیا عوام پرمزید ٹیکس لگائے جائیں۔

5 مئی 1789 کو ٹیکس کے نفاذ کے لئے پارلیمان کا اجلاس بلایا گیا- پارلیمان کے 3 حصے تھے ایک حصہ امرا ،دوسرا حصہ کلیسا اور تیسرا حصہ عوام کا تھا جو 97 فیصد تھا – عوام کے نمائندوں کے اختیارات محدود تھے وہ اشرافیہ سے دبے دبے رہتے تھے ، مگر آج ان کی آوازیں اونچی ہونے لگیں انہوں نے ٹیکس کے نفاذ کے خلاف بھرپور احتجاج کیا مگر بادشاہ نے ان کا اختلاف ماننے سے انکار کردیا تو جون 1789 میں عوام کے نمائندوں نے اپنا نام قومی اسمبلی رکھ کر اپنا اجلاس پارلیمان کے باہر کیا۔

بادشاہ نے پولیس اور فوج کو انھیں وہاں سے ہٹانے کا حکم دیا مگر انہوں نے حکم ماننے سے انکار کر دیابالاخرڈیڑھ ماہ بعد غیرملکی سپاہیوں کی مدد سے انھیں وہاں سے منتشر کرکے قید کرلیا گیا ۔بادشاہ مطمئن ہوگیا مگر اس سے اگلے روز عوام کا ہجوم “بستیل” قید خانے پرحملہ آور ہوکرتمام لوگوں کو آزاد کروا کر جیل میں موجود تمام اسلحہ ساتھ لے گئے- اس حملے کے نتیجے میں بادشاہ کی حکومت پر گرفت کمزور ہوگی- دیہات میں بھی بغاوت نے سر اٹھایا ،بالاخرجون 1791 میں بادشاہ اور ملکہ بھیس بدل کر ملک سے فرار ہونے لگے تو عوام نے پکڑ کر قید کرلیا۔

عوام کی اسمبلی نے جمہوری دستور بنایا عوامی عدالتیں لگیں جنہوں نے ہر اس شخص کا سر قلم کر دیا جس کے ہاتھ نرم یا کالر صاف تھے کیوں کے یہ اشرافیہ کی نشانی سمجھی جاتی تھی- بادشاہ اور ملکہ کے سر قلم کر دیے گئے – 1793 سے 1794 تک تقریبا 40 ہزار افراد کو قتل کیا گیا اور اس قتلِ عام کے نتیجے میں جدید فرانس کا آغاز ہوا۔

فرانسیسی مفکروں نے جیل توڑنے والے اس واقعے کو اپنی تاریخ میں انقلاب یا آزادی کے عنوان سے تعبیر کیا اور ہر سال اسے منایا جانے لگا۔ اس موقع پر شانزے لیزے پر شاندار پیریڈ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں