The news is by your side.

Advertisement

امریکا کے بزرگ ترین شہری 112 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

واشنگٹن : دوسری جنگ عظیم کے ہیرو اور امریکا کے بزرگ ترین شخص 112 سال کی عمر میں امریکی ریاست ٹیکساس میں انتقال کرگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے تجربہ کار رچرڈ اوورٹن نے تین برس تک امریکی افواج کے تمام سیاہ یونٹس میں تعینات رہے ہیں۔

رچرڈ اوورٹن مختلف لڑاکا کارروائیوں اور بحر الکاہل کی بیچ لینڈنگ میں شامل تھے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے نہ 2013 میں یوم ویٹرنز پر اعزاز سے نوازا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہےکہ رچرڈ اوورٹن نے 30 برس کی عمر میں رضاکارانہ طور پر امریکی افواج میں شمولیت اختیار کی تھی۔

امریکا کے سب سے عمر رسیدہ شخص کا خطاب حاصل کرنے والے رچرڈ اوورٹن نے امریکا کی 1887 انجینئر ایوی ایشن بٹالین کے تمام سیاہ یونٹ میں ذمہ داریاں انجام دیں ہیں، دوسری جنگ عظیم کے ہیرو سنہ 1941 میں امریکی بحری اڈے ’پرل ہاربر‘ پر موجود تھے جب جاپان نے بحری اڈے پر حملہ کیا تھا۔

سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے 2013 میں کہا تھا کہ رچرڈ اوورٹن اس وقت بھی پرل ہاربر بحری اڈے پر موجود تھے جب بحری جنگی جہاز میں آتشزدگی ہورہی تھی۔

باراک اوبامہ کا کہنا تھا کہ رچرڈ اوورٹن نے اوکیانا اور لائیو جیما میں بھی موجود تھے، رچرڈ اوورٹن کہتے ہیں کہ ’میں واحد شخص ہو جو خدا کے فضل سے وہاں سے نکل آیا‘۔

امریکی شہری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری طویل زندگی خدا کی دی ہوئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میری طویل عمر میں وسکی اور سگار کا بھی اہم کردار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے 18 برس کی عمر سے سگریٹ نوشی شروع کی تھی جو اب بھی جاری ہے اور ایک دن میں 12 سگارز سلگاتا ہوں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ رچرڈ سنہ 1906 میں پیدا ہوئے اور اپنی زندگی کا زیادہ تر حصّہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں گزارا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ آسٹن کی سٹی کونسل نے دوسری جنگ عظیم کے اعزاز میں گذشتہ برس 111 ویں سالگرہ کے موقع پر سٹی کونسل اسٹریٹ کا نام تبدیل کرکے رچرڈ اوورٹن ایونیو رکھ دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں