The news is by your side.

Advertisement

سترہویں صدی کی پینٹنگ بیچنے والے مصور کی جعلسازی کیسے ناکام ہوئی؟

جھوٹ پکڑنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہوتی، اگر کامن سینس سے کام لیا جائے اور بغور مشاہدے کی عادت ڈال لی جائے تو کسی کا بھی جھوٹ باآسانی پکڑا جاسکتا ہے۔

آج ہم آپ کو ایسے ہی ایک مصور کے جھوٹ کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جو اگر اپنے مقصد میں کامیاب رہتا تو کسی شخص کو بھاری مالی نقصان پہنچا سکتا تھا، آپ کو اس مصور کا جھوٹ پکڑنے کی کوشش کرنی ہے۔

اس مصور کو پیسوں کی ضرورت تھی، اس نے اخبار میں ایک اشتہار دیا کہ اس کے پاس سترہویں صدی کی ایک پینٹنگ ہے جو وہ اپنے مالی حالات کی وجہ سے فروخت کرنا چاہتا ہے۔

اخبار میں اشتہار شائع ہونے کے بعد کئی افراد نے اس سے رابطہ کیا جن میں ایک پولیس افسر بھی شامل تھا۔

پولیس افسر نے اس پینٹنگ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور جب وہ اس فن پارے کو دیکھنے کے لیے پہنچا تو اس نے چند لمحوں میں جان لیا کہ مصور جھوٹ بول رہا ہے۔ پینٹنگ سترہویں صدی کی نہیں تھی بلکہ خود مصور کی بنائی ہوئی تھی جو وہ جھوٹ بول کر فروخت کرنا چاہ رہا تھا۔

کیا آپ جانتے ہیں پولیس افسر نے مصور کا جھوٹ کیسے پکڑا؟

اگر آپ غور سے دیکھیں تو آپ کو علم ہوگا کہ پینٹنگ میں الیکٹرک پولز اور تاریں موجود ہیں، سترہویں صدی میں بجلی کی تاروں تو کیا بجلی کا ہی وجود نہیں تھا۔ پولیس افسر کے بغور دیکھنے کے بعد مصور کے جھوٹ کا پول کھل گیا اور وہ ایک بڑی رقم لوٹنے میں ناکام رہا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں