spot_img

تازہ ترین

کراچی میں موسلا دھار بارش کا کوئی امکان نہیں، چیف میٹرولوجسٹ

چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے کہا ہے کہ کراچی...

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صدیق قومی اسمبلی...

کمالیہ: بارش میں گھر کی چھت گر گئی، ماں باپ اور بیٹا جاں بحق

کمالیہ کے علاقے فاضل دیوان میں مسلسل اور تیز...

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے...

روبن گھوش کا تذکرہ جن کی دھنوں نے فلمی نغمات کو امر کر دیا

روبن گھوش کی بے مثال موسیقی کا سب سے نمایاں وصف جدت اور شوخ ردھم ہے۔ بلاشبہ روبن گھوش کی موسیقی میں کئی فلمی نغمات لازوال ثابت ہوئے۔ روبن گھوش 2016ء میں آج ہی کے دن چل بسے تھے۔ 1977ء میں ریلیز ہونے والی فلم آئینہ نے روبن گھوش کو ان کے کریئر کی بلندیوں پر پہنچایا تھا۔

روبن گھوش نے 1961ء میں بنگالی فلم سے کام کا آغاز کیا اور پھر اردو فلموں کی طرف آگئے۔ اردو فلم میں بطور موسیقار روبن گھوش کا سفر 1962 میں شروع ہوا تھا۔ ’چندا‘ وہ فلم تھی جس کے لیے روبن گھوش نے موسیقی ترتیب دی۔ اس زمانے میں پاکستانی فلم انڈسٹری میں کئی بڑے نام بطور موسیقار مصروف نظر آتے تھے۔ روبن گھوش ان کے درمیان ایک نوجوان موسیقار تھے جس نے فلم انڈسٹری میں‌ قدم رکھنے کے بعد جلد ہی اپنی محنت اور لگن سے اپنا راستہ بنا لیا۔ روبن گھوش نے اپنے کیریئر کے ابتدائی عرصہ میں فلم ’تلاش‘ کے لیے جو کام کیا، اس نے سب کو حیران کر دیا تھا۔ یہ فلم 1963ء میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی اور روبن گھوش اس فلم کے بہترین موسیقار کا نگار ایوارڈ لے اڑے۔ روبن گھوش کی دھنیں‌ ان کی فن کارانہ چابک دستی اور فنِ موسیقی میں ان کے کمال کا نمونہ ہیں۔

فلمی ناقدین تسلیم کرتے ہیں کہ فلم ’آئینہ‘ کو سپر ہٹ بنانے میں روبن گھوش کی لازوال دھنوں کا بڑا دخل تھا۔ اس فلم کے یہ گانے آپ نے بھی سنے ہوں گے جن کے بول تھے ’کبھی میں سوچتا ہوں،‘ اسے مہدی حسن نے گایا تھا۔ اسی طرح ’مجھے دل سے نہ بھلانا وہ گیت تھا جس میں مہدی حسن کے ساتھ گلوکارہ مہناز نے آواز ملائی تھی۔ گلوکارہ نیرہ نور کی آواز میں‌ ایک مقبول نغمہ ’روٹھے ہو تم، تم کو میں کیسے مناؤں پیا‘ بھی اس فلم میں‌ شامل تھا۔

روبن گھوش کی موسیقی میں کئی فلمی گیت بعد میں ریڈیو پاکستان اور ٹیلی ویژن پر نشر ہوئے اور انھیں شائقین نے ہر بار سراہا۔ یہ وہ سدا بہار گیت ہیں جنھیں‌ آج بھی بڑے ذوق و شوق سے سنا جاتا ہے۔ اور یہ نغمات ایک نسل کے لیے اپنی نوجوانی اور خوشی و غم کی مناسبت سے یادگار ہیں۔ اخلاق احمد کی آواز میں روبن گھوش کی موسیقی میں اس گیت ’سونا نہ چاندی نہ کوئی محل‘ نے سرحد پار بھی مقبولیت پائی تھی۔ آج بھی یہ نغمہ سماعتوں کو اپنا اسیر کر لیتا ہے۔

یہ بھی درست ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری کو سپر ہٹ فلمیں دینے میں روبن گھوش کی لازوال موسیقی کا بڑا دخل رہا ہے۔ روبن گھوش کی موسیقی میں ’مجھے تلاش تھی جس کی‘ ، ’ساون آئے ساون جائے‘ ، ’دیکھو یہ کون آ گیا… جیسے نغمات بھی شامل ہیں جن کو پاکستان ہی نہیں بھارت میں بھی سننے والوں نے بے حد پسند کیا۔

موسیقار روبن گھوش کے حالاتِ زندگی پر نظر ڈالیں تو ان کا تعلق عرب دنیا کے مشہور شہر بغداد(عراق) سے تھا۔ وہ 1939ء میں‌ پیدا ہوئے۔ عراق میں روبن گھوش کے والد اپنے کنبے کے ساتھ بغرضِ ملازمت سکونت پذیر تھے۔ یہ عیسائی خاندان اس وقت ڈھاکہ چلا گیا جب روبن گھوش چھے سال تھے۔ وہیں نوعمری میں‌ روبن گھوش کو موسیقی سے دل چسپی پیدا ہوئی۔ انھوں نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور اسی کو اپنا پیشہ بنایا۔ ڈھاکا ہی میں‌ روبن گھوش کی ملاقات اداکارہ شبنم سے ہوئی، وہ اس وقت فلم میں‌ معمولی کردار ادا کیا کرتی تھیں۔ تقسیم ہند کے بعد مشرقی پاکستان سے شبنم نے لاہور اور کراچی میں فلمی صنعت میں اپنی قسمت آزمائی اور پھر وہ اپنے وقت کی مقبول ہیروئن بن کر سامنے آئیں۔ روبن گھوش سے رشتۂ ازدواج سے منسلک ہونے کے بعد یہاں وہ فلمی دنیا پر راج کرتی رہیں اور ان کے شوہر ایک کام یاب موسیقار کے طور پر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھے۔ یہ جوڑی 1996ء میں بعض وجوہ کی بناء پر بنگلہ دیش منتقل ہو گئی۔ جب کہ سقوطِ ڈھاکا کے وقت روبن گھوش نے مشرقی پاکستان کے بجائے مغربی پاکستان میں سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ خاندان کراچی سے لاہور شفٹ ہو گیا تھا۔

روبن گھوش کا اپنے وقت کے مقبول ہیرو وحید مراد کے ساتھ ایک دل چسپ مذاق فلمی دنیا میں مشہور ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ وحید مراد بہت ہی سادہ طبیعت کے انسان تھے اور اکثر ان کے ساتھی ان سے مذاق کیا کرتے تھے۔ ان پر فلمایا جانے والا ایک مشہور نغمہ ’یوں کھو گئے تیرے پیار میں ہم‘ مجیب عالم نے گایا تھا جن کو وحید مراد نے دیکھا نہیں تھا۔ ایک فلمی تقریب میں مجیب عالم اپنی مخصوص چوڑے پائنچے کی پتلون پہنے موجود تھے تو وحید مراد انہیں دیکھے جا رہے تھے۔ موسیقار روبن گھوش نے وحید مراد سے ان کا تعارف یہ کہہ کر کروایا کہ یہ سینٹرل جیل کراچی میں پھانسیاں دیتے ہیں۔‘

سادہ طبیعت وحید مراد مجیب عالم سے پوچھنے لگے، ’جب آپ پھانسی دیتے ہیں تو کیفیت کیا ہوتی ہے؟‘ اس دن تو وحید مراد چلے گئے مگر کچھ عرصے بعد کسی اور تقریب میں مجیب عالم کو گانا گانے کے لیے بلایا گیا تو وحید مراد نے کہا کہ ’میں مجیب عالم کو دیکھنا چاہتا ہوں جس کا گایا گانا مجھ پر فلمایا گیا ہے۔‘ جب اسٹیج پر مجیب عالم آئے تو وحید مراد کو یاد آیا کہ یہ وہ ہیں جن کا تعارف بطور جلّاد روبن گھوش ان سے کروا چکے ہیں۔ محفل کے بعد مجیب عالم سے ملاقات ہوئی تو وحید مراد نے معصومیت سے پوچھا کہ ’کیا آپ اب بھی پھانسیاں دیتے ہیں؟‘

پاکستان میں ان کی آخری فلم ’جو ڈر گیا وہ مر گیا‘ تھا جس کی موسیقی بہت پسند کی گئی۔ انھیں چھے مرتبہ پاکستان کی فلم انڈسٹری کا سب سے معتبر نگار ایوارڈ دیا گیا تھا۔ روبن گھوش نے 76 برس کی عمر میں‌ ڈھاکہ میں وفات پائی۔

Comments

- Advertisement -