The news is by your side.

Advertisement

جسم میں دوا کی ترسیل کے لیے مختصر ترین روبوٹک مچھلی تیار

سان ڈیاگو: سائنس دانوں نے جسم کے مطلوبہ مقام پر دوا پہنچانے کے لیے دنیا کی سب سے چھوٹی روبوٹک ’نینو مچھلی‘ تیار کی ہے جو ریت کے ایک ذرے سے بھی 100 گنا چھوٹی ہے۔

اس روبوٹک مچھلی کو سان ڈیاگو میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنسدانوں نے بنایا ہے جو طبی مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس نینو مچھلی کے ذریعے غیرضروری چیر پھاڑ کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے جسم کے اندر چند خلیات تک انتہائی درستگی کے ساتھ دوا پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور کینسر کے علاج میں یہ بہت مدد گار ہوسکتی ہے۔

اس مچھلی کو جست اور سونے کی پنیوں سے تیار کر کے اس میں چاندی کے جوڑ لگائے گئے ہیں۔ سونے کے ذرات پتوار اور دم کا کام کرتے ہیں جس سے مچھلی تیرتی ہے۔ مچھلی کی لمبائی 800 نینو میٹر ہے۔

واضح رہے کہ ایک میٹر کے ایک ارب برابر ٹکڑے کیے جائیں تو ایک حصہ نینو میٹر یعنی ایک میٹر کا اربواں حصہ ہوگا۔

اس مچھلی پر جب تھرتھراتا ہوا مقناطیسی میدان ڈالا جاتا ہے تو جست کے مقناطیسی ذرات ایک طرف سے دوسری جانب کھسکتے ہیں، یوں مچھلی کا سر اور دم ہلتے ہیں وہ آگے بڑھتی ہے۔ مقناطیسی میدان کی کمی و زیادتی اور رخ بدل کر اس مچھلی کی سمت اور رفتار قابو کی جاسکتی ہے۔

اس سے قبل بھی کئی ماہرین نے ننیو تیراک جیسی اشیا تیار کی ہیں اور یہ مچھلی بھی انہی ایجادات میں سے ایک ہے۔ اس میں دوا بھر کر اسے انجکشن کے ذریعے جسم میں داخل کر کے مطلوبہ مقام تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں