The news is by your side.

Advertisement

برمی فوجیوں کی روہنگیا خواتین سے زیادتی کا انکشاف

ینگون: روہنگیا مسلمانوں پر میانمار فوج کے مظالم جاری ہیں، برمی فوجیوں کی جانب سے خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ئے جانے کا انکشاف ہوا ہے، مسلمان مردوں، بچیوں اور خواتین کو بے دردی سے قتل کرکے اُن کی نسل کشی کی جارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق میانمار فوج نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کردی، بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں مسلم خواتین کے ساتھ فوجیوں کی جنسی زیادتی کا انکشاف کیا ہے۔

متعدد خواتین کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، مہاجرین

بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ میانمار سے بنگلہ دیش نقل مکانی کرنے والی چند روہنگیا خواتین کا کہنا ہے کہ وہ جنسی حملوں کا نشانہ بنی ہیں، نقل مکانی کرنے والے کچھ روہنگیا خاندانوں کا یہ الزام بھی ہے کچھ خواتین کو زیادتی کے بعد قتل بھی کیا گیا۔

شرم کی وجہ سے بہت سی خواتین علاج نہیں کراتیں، ڈاکٹر

بنگلہ دیش میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے بہت ساری روہنگیا خواتین شرم کی وجہ سے اپنے علاج کروانے میں کتراتی ہیں۔

بہت ساری لڑکیوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، متاثرہ خاتون

زیادتی کی شکار ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ میانمار کی فوج نے ان کے گھروں کا محاصرہ کیا اور جو بھاگنے میں کامیاب ہوگئے بچ گئے جو نہیں بھاگ سکے یا تو وہ مر چکے ہیں یا انہوں نے ان کی طرح جنسی تشدد کا سامنا کیا ہے،بہت ساری لڑکیوں کو جنسی تشدد کے بعد قتل کردیا جاتا یے۔

زیادتی کی شکار خواتین نے علاج کا کہا تو فوج نے انکار کردیا، متاثرہ خاتون

ہاجرہ بیگم کا کہنا تھا کہ انھوں نے خود سے زیادتی کے بعد فوج سے طبی امداد کا مطالبہ کیا تو انھوں نے انکار کر دیا، میری جیسی بہت سی خواتین نے فوج سے علاج کے لیے کہا، ہم نے خاص طور پر وہ دوا مانگی جس سے ہم حاملہ نہ ہو سکیں لیکن ہمیں وہ دوا نہیں دی گئی۔

مردوں کو قتل اور خواتین سے برا سلوک کیا گیا، مہاجرین

مہاجرین کا الزام ہے کہ مردوں کو قتل کیا گیا اور خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، روہنگیا مسلمان بنیادی سہولیات سمیت خوراک اور دواؤں کے حوالے سے سخت بحران میں مبتلا ہیں۔

نومولو کے ساتھ سرحد پار کی، 15 سالہ بیٹی بچھڑ گئی، ریحانہ خاتون

بی بی سی کے مطابق ریحانہ بیگم نامی خاتون نے اپنے نومولود بچے کے ساتھ سرحد پار کی تھی لیکن وہ اپنی 15 سالہ بیٹی کو ڈھونڈنے کے ناکام رہیں۔

ریحانہ نے بتایا کہ مجھے ڈر ہے کہ اسے فوج نے پکڑ لیا ہوگا میں نے اب تک اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں سنی۔

ایک عورت پر تشدد ہوتے دیکھا، اس کی گود میں بچہ تھا، بعد میں اس کی لاش ملی، الیاس

اسی طرح محمد الیاس نے دو ہفتے قبل میانمار چھوڑا تھا، وہ روہنگیا خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کو بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھوں نے ایک خاتون پر تشدد ہوتے دیکھا اس کی گود میں ایک بچہ تھا بعد میں میں نے ایک اس کا آدھا جلا ہوا جسم پانچ اور لاشوں کے ساتھ دیکھا۔

واضح رہے کہ میانمار فوج کی جانب سے جاری ظلم و جبر سے لاکھوں مسلمان متاثر ہوئے ہیں، چار لاکھ سے زائد اپنے گھروں کو چھوڑ کر بنگلہ دیش کی سرحد پر کیمپوں میں پڑے امداد کے منتظر ہیں۔

برما بدھ مت مذہب کے ماننے والوں کا اکثریتی ملک ہے، یہاں کے مسلمان طویل عرصے سے ظلم و تشدد کا شکار ہے جس کے باعث اب تک ہزاروں روہنگیا مسلمان شہید ہوچکے ہیں۔

برما میں مسلمانوں کے قتل عام اور انہیں بے گھر کیے جانے کی پوری دنیا اور ملک بھر میں مذمت کی گئی، شہروں میں جگہ جگہ ریلیاں نکالی گئیں، برما کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور مسلم حکمرانوں او آئی سی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے چار لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان مہاجرین کی امداد، شیلٹر، دوا، کھانے اور پینے کی مد میں دنیا بھر سے 7 کروڑ ڈالر سے زائد  رقم کی اپیل کی گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں