تازہ ترین

فیض آباد دھرنا : انکوائری کمیشن نے فیض حمید کو کلین چٹ دے دی

پشاور : فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ...

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں...

سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان...

حکومت کل سے پٹرول مزید کتنا مہنگا کرنے جارہی ہے؟ عوام کے لئے بڑی خبر

راولپنڈی : پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان...

نئے قرض کیلئے مذاکرات، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن : آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلینا...

کردار پھر سے بدل گئے! پانڈیا کی جگہ روہت نے میدان میں ذمہ داری سنبھال لی

کرکٹ کے میدان میں ہاردک پانڈیا کی جگہ ممبئی انڈین کے پرانے کپتان روہت شرما نے پھر سے ذمہ داری سنبھال لی۔

وقت کتنی تیزی سے بدلتا ہے یہ بات ہاردک پانڈیا پر صادق آتی ہے، دو دن قبل آئی پی ایل کے ایک میچ سے وائرل ہونے والی ویڈیو میں وہ روہت شرما کو بتاتے نظر آئے تھے کہ کہاں فیلڈنگ کرنی ہے، اور پھر انھیں باؤنڈری پر بھیج دیا تھا۔

تاہم بدھ کی شام قسمت نے پلٹہ کھایا اور روہت شرما کو میدان میں ذمہ داری سنبھالنے کا موقع مل گیا، سن رائزرز حیدرآباد کی زبردست بیٹنگ کی وجہ سے ممبئی انڈینز اور کپتان ہاردک ہکا بکا نظر آئے۔

اسی دوران ممبئی کے سابق کپتان روہت شرما نے کچھ لمحات کے لیے میدان میں ذمہ داری سنبھال لی جبکہ ہاردک بطور قائد وہاں موجود تھے، روہت گراؤنڈ میں فیلڈ سیٹ کرتے نظر آئے اور بولرز کو ہدایات دیتے رہے جیسے کو وہ پہلے بطور قائد کیا کرتے تھے۔

اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ شاید ہاردک کے پاس خیالات ختم ہو گئے تھے اور وہ کوئی بھی صحیح فیصلہ کرنے سے آری نظر آرہے تھے۔

ایک مرحلے پر سن رائزرز نے پاور پلے میں 81 رنز بنالیے تھے، ٹریوس ہیڈ اور ابھیشیک شرما نے راجیو گاندھی اسٹیڈیم میں چھکوں کی برسات کردی تھی، اسی دوران روہت نے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔

واضح رہے کہ ممبئی انڈینز اور حیدرآباد سن رائزرز کے میچ میں 500 سے زائر رنز بنے تھے جبکہ کسی بھی ٹی ٹوئنٹی میچ میں سب سے زیادہ 38 چھکے بھی لگے تھے لگائے۔

حیدرآباد نے اس میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 277 رنز بنائے تھے جبکہ ہدف کے تعاقب میں ممبئی کی ٹیم 5وکٹوں پر 246 رنز بناسکی تھی۔

Comments

- Advertisement -